گندم کی مصنوعی قلت،ملک بھر میں گندم کی قیمت کنٹرول سے باہر ہونے لگی
ملک بھر میں گندم کی ذخیرہ اندوزی اور نان اسٹیک ہولڈرز کی جانب سے کالے دھن کے بے دریغ استعمال نے گندم بحران کو شدید تر کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں کھلی مارکیٹ میں گندم کی قیمتیں 4850 روپے فی 40 کلو گرام کی اعلیٰ ترین سطح تک جا پہنچی ہیں۔
سندھ اور پنجاب کی حکومتوں نے ربیع کی فصل کے دوران کسانوں سے گندم کی سرکاری خرید کے لیے 3500 روپے فی 40 کلو گرام قیمت مقرر کی تھی۔ تاہم، غیر قانونی ذخیرہ اندوزوں اور مافیا نے اوپن مارکیٹ پر قبضہ جما کر قیمتوں میں 1000 سے 1250 روپے فی 40 کلو گرام کا گراں قدر اضافہ کر دیا، جس کے باعث قیمتیں 4700 سے 4850 روپے فی 40 کلوگرام تک پہنچ گئی ہیں۔ صوبائی محکمہ جاتِ خوراک اس صورتِ حال کے سامنے بوجوہ بے بس نظر آ رہے ہیں۔
گندم کی اس مصنوعی قلت اور قیمتوں میں ناطاقتی کے پیشِ نظر وفاقی حکومت نے فوری طور پر 10 لاکھ ٹن گندم درآمد کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ مارکیٹ میں سپلائی کو مستحکم کیا جا سکے۔
ملک کے اہم شہروں میں گندم کے تازہ ترین نرخ
ملک کی مختلف منڈیوں میں ریکارڈ کیے گئے گندم کے نرخ درج ذیل ہیں:
کراچی اور پورٹ قاسم کورنگی: 11,650 سے 11,700 روپے فی 100 کلو گرام
پشاور: 12,650 روپے فی 100 کلو گرام
حیدر آباد اور کوٹری: 11,400 سے 11,500 روپے فی 100 کلو گرام
راولپنڈی، اسلام آباد، ٹیکسلا اور واہ کینٹ: 4,750 سے 4,850 روپے فی 40 کلو گرام
لاہور اور گوجرانوالہ: 4,650 روپے فی 40 کلو گرام
رحیم یار خان: 4,600 روپے فی 40 کلو گرام