ایران-امریکا جنگ بندی ، بدلتے حالات کیا نشاندھی کررہے ہیں
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی ایرانی شہر مشہد پہنچ گئے
امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط کے بعد خطے میں جنگ بندی کی صورتحال برقرار ہے، تاہم اس دوران اہم سیاسی اور فوجی بیانات سامنے آئے ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فرانس میں صدر میکرون کے ساتھ عشائیے کے موقع پر اس تاریخی معاہدے پر دستخط کیے۔ اس معاہدے کے تحت ابتدائی طور پر ایران آبنائے ہرمز کو فوری طور پر کھولے گا جبکہ امریکا اپنی بحری ناکہ بندی ختم کرے گا۔
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی ایرانی شہر مشہد پہنچ گئے، جہاں وہ ایرانی حکومت کے نمائندوں سے ملاقاتیں کریں گے۔

ایرانی میڈیا کے مطابق محسن نقوی کے دورہ ایران کے پروگرام میں امام رضا کے مزار پر حاضری بھی شامل ہے، محسن نقوی ایرانی ہم منصب اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے بھی ملاقات کریں گے۔
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی ملاقاتوں میں پاکستان اور ایران کے دوطرفہ تعلقات، خطے کی مجموعی صورتحال اور باہمی دلچسپی کے دیگر امور پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان جاری مذاکرات بھی بات چیت کے اہم موضوعات میں شامل ہوں گے۔محسن نقوی پاکستان کی سفارتی کوششوں کے سلسلے میں، جو علاقائی کشیدگی میں کمی اور مذاکرات کے فروغ کے لیے کی جا رہی ہیں، متعدد بار تہران کا دورہ کر چکے ہیں۔
ان کا یہ تازہ دورہ بھی علاقائی سفارت کاری اور خطے میں جاری پیش رفت کے تناظر میں انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
صدر ٹرمپ کا چین کا شکریہ اور فوجی برتری کا دعویٰ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چینی صدر شی جن پنگ کا خصوصی شکریہ ادا کیا ہے کہ انہوں نے ایران کے معاملے میں مداخلت نہیں کی، حالانکہ چین اپنی توانائی کی ضروریات کا ایک بڑا حصہ آبنائے ہرمز کے ذریعے پورا کرتا ہے۔ میری لینڈ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ امریکا کے پاس دنیا کی سب سے طاقتور فوج ہے جس نے محض ایک ہفتے میں ایران کی بحریہ، فضائیہ اور ریڈار سسٹم کو ناکارہ بنا کر سب کچھ ختم کر دیا تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ معاہدہ امریکا نے نہیں بلکہ ایران نے مایوسی کی حالت میں کیا ہے، اور ایران کو فی الحال کوئی رقم نہیں دی جائے گی۔
لبنان میں اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جنگ بندی اور خلاف ورزی

دوسری جانب، امریکا اور قطر کی ثالثی سے لبنان میں اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان بھی جنگ بندی نافذ ہو چکی ہے۔ تاہم، معاہدے کے نفاذ کے باوجود اسرائیل کی جانب سے خلاف ورزی کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ لبنان کے جنوبی علاقے کفرتبنیت اور تفاح صوبے پر اسرائیلی جنگی طیاروں کی بمباری اور ڈرون حملے میں 2 افراد جاں بحق ہو گئے ہیں۔ اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ ان کی فوج بفر زون میں موجود رہے گی اور کسی بھی حملے کا جواب دیا جائے گا۔ اس سے قبل حزب اللہ کے ہاتھوں 4 اسرائیلی فوجیوں کی ہلاکت پر اسرائیلی وزیر بن گویر نے شدید غصے کا اظہار کرتے ہوئے پورے لبنان کو جلانے کا مطالبہ کیا تھا۔
جوہری مذاکرات اور معاشی صورتحال
معاہدے کے اگلے مرحلے پر عملدرآمد کے لیے صدر ٹرمپ کے خصوصی مندوب اسٹیووٹکوف جوہری مذاکرات کے لیے سوئٹزرلینڈ روانہ ہو رہے ہیں، جہاں صدر کے داماد جیرڈ کشنر پہلے ہی موجود ہیں۔ ایران کی معاشی صورتحال کے حوالے سے ‘ٹینکر ٹریکرز’ کی رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ ایران نے امریکی بحری ناکہ بندی کے باوجود گزشتہ پانچ روز میں 18 ملین بیرل خام تیل برآمد کر کے 1.44 ارب ڈالر کما لیے ہیں۔ ایرانی وزارت خارجہ نے ان خبروں کی تردید کی ہے کہ ایران نے آبنائے ہرمز کو بند کیا تھا۔