vni.global
Viral News International

امریکہ اور ایران میں کشیدگی کی نئی لہر،جنگ بندی کے بعد دوبارہ فضائی حملے

واشنگٹن / تہران:امریکہ اور ایران کے درمیان جولائی 2026 میں کشیدگی ایک بار پھر اپنے عروج پر پہنچ گئی ہے۔ گزشتہ ماہ اکستان اور قطر کی ثالثی میں طے پانے والا عبوری معاہدہ اور جنگ بندی (جو کہ فروری 2026 میں شروع ہونے والی پاکٹ جنگ کے بعد عمل میں آئی تھی) بری طرح ناکام ہو گئی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے باقاعدہ اعلان کیا ہے کہ ایران کے ساتھ ہونے والی “مفاہمتی یادداشت” اب ختم ہو چکی ہے۔


کشیدگی کی تازہ ترین وجوہات

حالیہ بحران کا آغاز آبنائے ہرمز  میں بحری جہازوں پر حملوں اور اقتصادی پابندیوں کے دوبارہ نفاذ سے ہوا:

تیل پر دوبارہ پابندیاں: امریکہ نے ایران کے خلاف تیل کی فروخت پر عاید پابندیاں دوبارہ نافذ کر دیں، جس پر تہران نے شدید احتجاج کیا اور اسے معاہدے کی خلاف ورزی قرار دیا۔

آبنائے ہرمز میں حملے: برطانوی اور امریکی حکام کے مطابق ایران نے آبنائے ہرمز میں قطر کے ایل این جی ٹینکر ‘الرقیات’ سمیت تین تجارتی بحری جہازوں کو میزائلوں سے نشانہ بنایا۔

امریکی فضائی کارروائی: بحری گزرگاہ میں تجارتی جہازوں پر حملوں کے جواب میں امریکی فوج نے ایک بار پھر ایران پر نئی فضائی یلغار کر دی۔ امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق ایران کے ساحلی علاقوں بشمول جزیرہ قشم، خارگ، سیرک اور بندر عباس میں پاسدارانِ انقلاب کے 80 سے زائد فوجی ٹھکانوں اور ریڈار سسٹمز کو نشانہ بنایا گیا۔

ایران کا ردِعمل اور جوابی کارروائیاں

ایران کی عبوری قیادت اور عسکری حکام نے امریکی حملوں پر سخت ردِعمل کا اظہار کیا ہے:“جس امریکی یا اتحادی اڈے سے ایران پر حملہ ہوگا، ہماری فوج اس اڈے کو براہِ راست نشانہ بنائے گی۔” — ایرانی عسکری کمانڈ

ایران کی جانب سے درج ذیل جوابی اقدامات کی رپورٹ سامنے آئی ہے:

ایرانی حکام نے امریکی حملے میں اپنے ایک نیوی اہلکار کی شہادت کی تصدیق کی ہے۔

ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے خطے میں ایک امریکی  ڈرون کو مار گرایا ہے۔

خلیجی خطے میں کشیدگی پھیلاتے ہوئے ایران نے بحرین اور کویت میں قائم امریکی فوجی تنصیبات پر میزائل اور ڈرون حملے کیے ہیں۔

عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ

Oil prices slip on US crude build and China demand worries - Profit by Pakistan Today

امریکی محکمہ خزانہ کی جانب سے ایرانی تیل کی محدود فروخت کی اجازت دینے والا 21 جون کا جنرل لائسنس منسوخ کیے جانے کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق کاروباری سرگرمیوں کے بعد برینٹ خام تیل کی قیمت میں 1.87 ڈالر فی بیرل اضافہ ہوا جس کے بعد قیمت 76.03 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔

ایران پر حالیہ امریکی حملوں کے بعد امریکی خام تیل کی قیمت میں بھی 3 فیصد سے زیادہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے بعد نئی قیمت 72.65 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے۔

پسِ منظر: 2026 کی ایران جنگ

واضح رہے کہ رواں سال 28 فروری 2026 کو امریکہ اور اسرائیل نے مشترکہ طور پر ایران پر ایک بڑا فضائی حملہ کیا تھا، جس میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای جاں بحق ہو گئے تھے۔ اس کے بعد سے مشرقِ وسطیٰ شدید جنگ کی لپیٹ میں ہے۔

اگرچہ جون میں پاکستان کے شہر اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کے بعد جنگ بندی کا معاہدہ ہوا تھا اور 18 جولائی کو مذاکرات کا اگلا دور بھی طے تھا، تاہم حالیہ جھڑپوں اور صدر ٹرمپ کے سخت بیانات کے بعد خطہ ایک بار پھر بڑے پیمانے کی جنگ کے دہانے پر پہنچ گیا ہے۔ عالمی منڈی میں تیل کی سپلائی اور آبنائے ہرمز کی سیکیورٹی اس وقت شدید خطرے میں ہے۔

You might also like
Leave A Reply

Your email address will not be published.