نور مقدم قتل کیس، مجرم ظاہر جعفر کی سزائے موت پر نظرثانی کی درخواست خارج، فیصلہ جاری
اسلام آباد: سپریم کورٹ آف پاکستان نے نور مقدم قتل کیس میں مرکزی مجرم ظاہر جعفر کی سزائے موت کے خلاف نظرثانی کی درخواست خارج کرتے ہوئے 12 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا ہے۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم کی جانب سے تحریر کیے گئے فیصلے کے مطابق مجرم نے ذہنی مریض ہونے کی بنیاد پر سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کرنے کی استدعا کی تھی، تاہم عدالت عالیہ نے قرار دیا کہ مجرم ایسے کوئی شواہد پیش نہیں کر سکا جو فیصلے پر نظرثانی کا جواز بن سکیں۔ عدالت نے واضح کیا کہ نظرثانی میں عدالت کا دائرہ اختیار انتہائی محدود ہوتا ہے اور اسے عام اپیل کے طور پر نہیں لیا جا سکتا۔
یہ بھی پڑھیں
نورمقدم قتل کیس: ظاہر جعفرکی سزائے موت کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر
نورمقدم قتل کیس: عدالت نے ملزم ظاہر جعفر کے والدین کی درخواست ضمانت پر فیصلہ سنادیا
فیصلے میں مزید کہا گیا ہے کہ ریکارڈ سے ثابت ہوتا ہے کہ مجرم ایک انتہائی سنگین جرم کا مرتکب ہوا ہے جس کی سزا میں کمی کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ یاد رہے کہ ٹرائل کورٹ نے ظاہر جعفر کو نور مقدم کے ساتھ زیادتی اور قتل کے جرم میں سزائے موت سنائی تھی، جسے اسلام آباد ہائیکورٹ اور سپریم کورٹ نے بھی برقرار رکھا تھا۔