یوم آزادی کے موقع پر سائبر اٹیک کی کوشش ناکام، سرکاری رابطوں کی محفوظ ایپ عارضی طور پر بند
اسلام آباد (وی این آئی ) پاکستان کے 79 ویں یومِ آزادی کے موقع پر دشمن عناصر کی جانب سے ملک کے حساس مواصلاتی نظام کو نشانہ بنانے کی مذموم کوشش کے بعد وزیراعظم، وفاقی وزرا اور اعلیٰ سرکاری افسران کے استعمال میں رہنے والی محفوظ میسجنگ ایپ “بیپ پاکستان “کو سیکیورٹی تدابیر کے تحت 13 اور 14 اگست کے لیے عارضی طور پر معطل کر دیا گیا ہے۔
سائبر اٹیک اور غیر ملکی ایجنسیوں کا ملوث ہونا
ذرائع ابلاغ اور سائبر سیکیورٹی ڈائریکٹوریٹ کے مطابق، یومِ آزادی کی تقریبات کے دوران قومی و سرکاری سطح پر اہم مواصلاتی رابطوں کو متاثر کرنے اور حساس دستاویزات تک رسائی حاصل کرنے کے لیے ایک بڑا سائبر حملہ کیا گیا۔

حساس اداروں کے ابتدائی تجزیے
-
حملے کا منبع: اس سائبر ایڈوانسڈ پرسٹنٹ تھریٹ حملے کے پیچھے بھارتی اور اسرائیلی خفیہ ایجنسیوں کا گٹھ جوڑ اور ان سے منسلک ہیکنگ گروپس شامل تھے۔
-
ہدفی نظام: حملے کا مقصد اعلیٰ سرکاری قیادت کے انکرپٹڈ ڈیٹا اور اہم ترین فیصلوں سے متعلق معلومات کی چوری تھا۔
حفاظتی تدابیر اور ای سی ڈی کی کارروائی
نیشنل انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ اور سائبر امپلی منٹیشن کمیٹی نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ایپ کو سرور کی سطح پر عارضی طور پر آف لائن کر دیا۔ذرائع کا کہنا ہے“دشمن طاقتوں کی جانب سے ڈیٹا ہیکنگ یا ڈینائل آف سروساٹیک کے خطرات کے پیش نظر 13 اور 14 اگست کے دوران ایپ سروسز کو روکنے کا فیصلہ پیشگی حفاظتی حکمتِ عملی کا حصہ ہے تاکہ کسی بھی قسم کی اہم معلومات غیر ملکی ہاتھ نہ لگ سکیں۔”

سائبر سیکیورٹی اداروں کی طرف سے کئے گئے اقدامات
سائبر سیکیورٹی اداروں کے مطابق تمام مرکزی سرورز اور انکرپشن کیز مکمل طور پر محفوظ ہیں اور کسی قسم کا حساس ڈیٹا لیک نہیں ہوا۔ 15 اگست سے تمام سروسز کو مکمل سیکیورٹی اڈٹ کے بعد دوبارہ بحال کر دیا جائے گا۔