پی ٹی آئی نےوزیر اعظم کی مزاکرات کی دعوت قبول کرلی
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے وفاقی حکومت کے ساتھ مذاکرات کرنے پر مشروط آمادگی ظاہر کر دی ہے۔
قومی اسمبلی کے اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا کہ ہم وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے دی گئی مذاکرات کی پیشکش کو خوش آئند قرار دیتے ہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر حکومت سنجیدہ ہے تو ان مذاکرات کے آغاز میں اب کس بات کی دیر ہے؟ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ ہم نے مذاکرات کے عمل کے لیے بانی پی ٹی آئی عمران خان تک رسائی کا مطالبہ کیا ہے۔
ایوان کا ماحول اور تلخیاں کم کرنے کی ضرورت
بیرسٹر گوہر نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آج ایوان کی کارروائی کا آغاز حکومت اور اپوزیشن کے درمیان اچھے الفاظ سے نہیں ہوا تھا۔ انہوں نے دونوں اطراف سے برداشت کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی تاکہ سیاسی تناؤ اور باہمی نفرتوں کو کم کیا جا سکے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اگر ہم واقعی ایوان کو مضبوط بنانا چاہتے ہیں تو حکومت اور اپوزیشن کو مل کر ایک یادداشت (میثاق) پر دستخط کرنا ہوں گے۔
اقبال آفریدی کی معطلی کا معاملہ
اجلاس کے دوران بیرسٹر گوہر نے پی ٹی آئی کے رکن اسمبلی اقبال آفریدی کی معطلی کا معاملہ بھی اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ اقبال آفریدی کو معطل کر کے یہ کہنا کہ “نکل جائیں ورنہ نکال دوں گا” مناسب رویہ نہیں تھا۔ انہوں نے سپیکر سے مطالبہ کیا کہ اقبال آفریدی کو اجلاس کے باقی دورانیے کے لیے واپس بلایا جائے۔ اس موقع پر انہوں نے رانا تنویر کی جانب سے معذرت کو قبول کرنے کا بھی اعلان کیا۔