چکوال میں آسٹریلیا سے آئی کم عمر لڑکی قتل ، سی سی ڈی اہلکار گرفتار
چکوال (ویب ڈیسک): پنجاب کے شہر چکوال میں کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ (سی سی ڈی) کے اہلکاروں کی جانب سے مبینہ طور پر ڈاکو سمجھ کر ایک کار پر اندھا دھند فائرنگ کے نتیجے میں آسٹریلیا سے آئی 9 سالہ بچی جاں بحق جبکہ اس کا بھائی اور والد شدید زخمی ہو گئے۔ پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے فائرنگ کرنے والے سی سی ڈی اہلکار کو گرفتار کر کے مقدمے میں دفعہ 302 کا اضافہ کر دیا ہے، جبکہ دوسری جانب واقعے میں ملوث 2 مبینہ ڈاکو بھی پولیس مقابلے میں مارے گئے ہیں۔
واقعے کا پس منظر اور فائرنگ کا ہولناک واقعہ
ذرائع کے مطابق 39 سالہ آسٹریلوی شہری عدیل احمد حال ہی میں اپنی اہلیہ ڈاکٹر سدرہ خان، 10 سالہ بیٹے عفان احمد اور 9 سالہ بیٹی ہانیہ احمد کے ساتھ پاکستان آئے تھے اور حال ہی میں حج کی سعادت حاصل کر کے واپس لوٹے تھے۔ بدھ کی رات اپنے سسرال سے کھانا کھانے کے بعد جب وہ اپنی گاڑی میں روانہ ہوئے تو راستے میں موٹر سائیکل پر سوار دو ڈاکوؤں نے انہیں گن پوائنٹ پر روک لیا اور ڈاکٹر سدرہ سے تقریباً 5 لاکھ روپے مالیت کے زیورات لوٹ لیے۔
اسی دوران وہاں سے گزرنے والے ایک سی سی ڈی اہلکار نے ڈکیتی کی واردات دیکھی۔ وہ فوری طور پر قریبی اسٹیشن پہنچا، کانسٹیبل سے سرکاری بندوق (ایس ایم جی) چھینی اور ڈاکوؤں پر فائرنگ کر دی، جس پر ڈاکوؤں نے بھی جوابی فائرنگ کی اور اپنی موٹر سائیکل موقع پر ہی چھوڑ کر فرار ہو گئے۔
غلط فہمی اور اندھا دھند فائرنگ
ڈاکوؤں کے فرار ہوتے ہی عدیل احمد نے خوف کے عالم میں اپنی گاڑی تیز رفتاری سے بھگا دی۔ سی سی ڈی اہلکاروں نے مبینہ طور پر یہ سمجھا کہ گاڑی میں ڈاکو سوار ہیں، چنانچہ انہوں نے موٹر سائیکلوں پر کار کا پیچھا کیا اور اس پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ عدیل احمد فائرنگ کے باوجود گاڑی کو اپنے سسرال کے گیٹ تک پہنچانے میں کامیاب رہے جہاں کار بے قابو ہو کر گیٹ سے ٹکرا گئی۔
گاڑی پر ہونے والی فائرنگ کے نتیجے میں 9 سالہ ہانیہ احمد موقع پر ہی جاں بحق ہو گئیں جبکہ عدیل اور ان کا بیٹا عفان شدید زخمی ہو گئے۔ زخمیوں کو راولپنڈی کے بینظیر بھٹو ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں ان کے آپریشن کیے گئے۔ ڈاکٹر سدرہ خان واقعے میں محفوظ رہیں۔
ملزم اہلکار کی گرفتاری اور جے آئی ٹی کی تشکیل
ابتدائی طور پر ایف آئی آر میں سی سی ڈی اہلکار کا نام شامل نہیں تھا، تاہم بعد میں ایف آئی آر میں ترمیم کرتے ہوئے قتل کی دفعہ 302 شامل کی گئی جس کے تحت فائرنگ کرنے والے اہلکار کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔
ریجنل آفیسر راولپنڈی حسن جہانگیر وٹو اور ڈی پی او چکوال کاشف ذوالفقار نے متاثرہ خاندان سے ملاقات کی اور تعزیت کرتے ہوئے فوری انصاف کی یقین دہانی کرائی۔ ڈی پی او چکوال کا کہنا تھا کہ یہ ایک انتہائی افسوسناک واقعہ ہے اور اس کی مکمل تحقیقات کے لیے ایک مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (JIT) تشکیل دے دی گئی ہے۔
دونوں ڈاکو مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک
پولیس حکام کے مطابق، جمعرات کی رات سی سی ڈی کے ساتھ ایک اور مبینہ مقابلے میں واردات میں ملوث دونوں ڈاکو مارے گئے۔ ہلاک ہونے والے ڈاکوؤں کی شناخت شاہدرہ کے رہائشی محمد عباس اور فیروز والا کے رہائشی محمد فیاض کے نام سے ہوئی ہے۔
سی سی ڈی کے سینئر عہدیدار نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ ڈاکو پنجاب کے مختلف اضلاع میں ڈکیتی کی درجن سے زائد وارداتوں میں ملوث تھے اور ماضی میں بھی ان پر فرد جرم عائد کی جا چکی تھی۔ ان کا طریقہ واردات یہ تھا کہ ملزم عباس اپنے ساتھی فیاض کی بیوی کا بھیس بدل کر دن میں ریکی کرتا تھا اور رات کو یہ دونوں مل کر وارداتیں انجام دیتے تھے۔