حکومتی پالیسیوں نےآج کسانوں کوشدیدمالی بحران سے دوچار کردیا،شیخ وقاص
پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر ملک احمد بچھر، چیئرمین سنی اتحاد کونسل صاحبزادہ حامد رضا اور کسان نمائندگان کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس
پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات شیخ وقاص اکرم نے اسلام آباد میں مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے حکومت کی زراعت دشمن پالیسیوں پر کڑی تنقید کی،، رہنماؤں نے کہا کہ کسانوں کو نظر انداز کر کے معیشت کی ریڑھ کی ہڈی کو توڑا جا رہا ہے،موجودہ بجٹ دراصل کسان کش بجٹ ہے، جسے کسی صورت قبول نہیں کیا جا سکتا۔۔
شیخ وقاص اکرم کا کہنا تھا کہ موجودہ حکومت کسان دشمن پالیسیاں اپنا رہی ہے، اور پی ٹی آئی ہی واحد جماعت ہے جو کسانوں کے حقوق کی ترجمانی کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ معاشی زیادتیاں کھاد، بیج، زرعی ادویات کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ ہو چکا ہے جبکہ سبسڈی ختم کی جا چکی ہے۔ٹیکسوں کا بوجھ: سولر پر ٹیکس لگایا گیا ہے حالانکہ کسان متبادل توانائی کی طرف جا رہے تھے۔ درآمدی کپاس پر پہلے صفر جی ایس ٹی تھا، اب 18 فیصد لگا دیا گیا ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا مکئی کی پیداوار 15.4 فیصد، بڑے کراپس میں 13 فیصد، گندم کی پیداوار میں 8.9 ملین ٹن کی کمی، آم کی پیداوار میں 70 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔ مجموعی طور پر کسانوں کو 2200 ارب روپے کا نقصان ہو چکا ہے، حکومت کے معاشی سروے میں حقائق کو چھپایا گیا، کسان آج بدترین غذائی، معاشی اور پالیسی بحران سے گزر رہا ہے۔
پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر ملک احمد بچھر نے کہا کہ چچا بھتیجی کی حکومت اسلام آباد کی پالیسیوں کو ہی پنجاب میں لاگو کر رہی ہے، جس کے سنگین نتائج سامنے آ رہے ہیں۔پنجاب کو 2200 ارب روپے کا نقصان ہو چکا ہے۔55 فیصد کپاس اور دیگر فصلیں کاشت ہی نہیں کی گئیں۔گندم خریداری کے لیے حکومت کے پاس 375 ارب روپے نہیں تھے لیکن وزیراعلیٰ پنجاب نے 100 ارب اشتہارات پر اڑا دیے۔محکمہ خوراک کو ناکارہ کیا جا رہا ہے، اور زمینوں پر لینڈ مافیا کو تحفظ دیا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ بجٹ عوام کا نہیں، قبضہ مافیا کا بجٹ ہے، جسے ہم مکمل طور پر مسترد کرتے ہیں۔
سنی اتحاد کونسل کے چیئرمین صاحبزادہ حامد رضا نے کہا کہ حکومت کی مجرمانہ غفلت کے باعث کسان کا وجود خطرے میں ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ زمیندار اپنی لاگت کا 50 فیصد بھی پورا نہیں کر پا رہا۔فوڈ سیکیورٹی کا سنگین خطرہ درپیش ہے، 11 کروڑ پاکستانی غذائی قلت کا شکار ہیں۔آبپاشی نظام برباد، نہروں کی صفائی بند، زرعی تحقیق کا کوئی وجود نہیں۔صدر ہاؤس کے باغ کے لیے 6 کروڑ روپے مختص ہیں، لیکن کسان کے لیے کچھ نہیں۔