وزیراعلی خبیرپختونخوا کی ضمنی انتخابات میں ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی
الیکشن کمیشن نے سہیل آفریدی کیخلاف کیس کا فیصلہ محفوظ کرلیا
الیکشن کمیشن نے وزیراعلی خبیرپختونخوا سہیل آفریدی کیخلاف ضابطہ اخلاق خلاف ورزی کیس کا فیصلہ محفوظ کرلیا ، چیف الیکشن کمشنرنے سہیل آفریدی کے وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے ریمارکس دیے آپ نے کمیشن پرالزام لگایا کہ پی ٹی آئی کے حق میں کبھی کوئی فیصلہ نہیں آیا،الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی ارکان کے ڈفیکشن کیس میں
چیف الیکشن کمشنر کی سربراہی میں پانچ رکنی کمیشن نے کیس پر سماعت کی درخواستگزاربابرنواز کے وکیل سجیل سواتی نے موقف اپنایاکہ این اے 18 ضمنی انتخاب سے چارروزقبل وزیرِاعلیٰ نے چمبہ میں خطاب میں پولیس اورانتظامیہ کو دھمکیاں دیں ، آرٹیکل 63 ٹو کے تحت سہیل آفریدی کونااہل کیا جائے الیکشن کمیشن کے وکیل خرم شہزاد نے کہاکہ عملہ کودھمکانے پرسہیل آفریدی کی رکنیت معطل ہوسکتی ہے وزیراعلی سہیل آفریدی کے وکیل علی بخاری بولے کہ یہ واقعہ ہری پور میں نہیں ہوا،پشاورہائیکورٹ نے سہیل آفریدی کیخلاف کسی بھی آرڈرسے کمیشن کوروک رکھا ہے وزیراعلیٰ پنجاب نے بھی ترقیاتی اسکیموں کا اعلان کیا ممبرسندھ نے ریمارکس دیے وزیراعلیٰ پنجاب نے یہ تونہیں کہا کہ “صبح یا رات نہیں دیکھ پائیں گے”
چیف الیکشن کمشنرنے ریمارکس دیے وزیراعلیٰ پنجاب کی آپ کے کیس سے کوئی مماثلت نہیں ہے،سہیل آفریدی عوامی اجتماع میں کہے یا بند کمرے میں وہ بطور وزیراعلیٰ بات کررہے ہیں وکیل بولے کہ سہیل آفریدی نے انتظامیہ یا عملہ کونہیں دھمکایا، ممبر کے پی کے نے کہاکہ کیا آپ کا یہ کہنا ہے کہ یہ دھمکی نہیں بد دعا تھی، الیکشن کمیشن نے دلائل مکمل ہونے پر فیصلہ محفوظ کرلیا ۔۔جماعت کے حق میں فیصلہ دیا ۔۔