پاکستان کو ڈیجیٹل اکانومی کی طرف لے جارہے ہیں ،وزیرخزانہ
وزیرخزانہ محمد اورنگزیب کی سیکریٹری خزانہ اورچیئرمین ایف بی آر کےہمراہ پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس
وفاقی وزیرخزانہ نے بجلی بلوں پرسرچارج کی تردید کرتے ہوئے کہاکہ حکومت جوکچھ دے رہی ہے قرضے لے کردے رہی ہے ملک کوآگے لے جانے کیلئے ٹیرف ریفارمزکرنا ہونگی ٹیکس سیشن بڑھانےکےبجائےحکومتی اخراجات کم ہونےچاہئیں اگرٹیکس قوانین میں ترمیمی مںظور نہ کی گئیں تو ہمیں اضافی ٹیکسز لگانے پڑیںگے ۔۔۔
وزیرخزانہ محمد اورنگزیب نے سیکریٹری خزانہ اورچیئرمین ایف بی آر کےہمراہ پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہاکہ ٹیرف اصلاحات بہت اہمیت کی حامل ہے ۔۔ چار ہزارٹیرف لائنز میں کسٹم ڈیوٹی کو ختم کردیا جس سے وسائل کےبہترین استعمال کوفروغ ملےگا ،2 ہزار 700 ٹیرف لائنز میں کسٹم ڈیوٹی کو کم کیا گیا انہوں نے کہاکہ کسٹم ڈیوٹی ختم ہونے سے ایکسپورٹرز کو فائدہ ہوگا مقصد برآمدات پرمبنی معیشت کوفروغ دینا ہے
،وزیر خزانہ نے کہاکہ تنخواہ دارطقےکوجتناریلیف دے سکتےتھے وہ دیا ہم مالی گنجائش کےمطابق ریلیف دےسکتے ہیں ،چادرکے حساب سے آگے بڑھنا ہے ،
زرعی شعبے پرکوئی اضافی ٹیکس نہیں لگایا گیا ،چھوٹے کسانوں کوآسان شرائط پر قرضے دیے جائیں گے پینشن کےحوالے سے بھی اصلاحات کی گئی ہیں ملک کوآگے لے جانا ہے توٹیرف ریفارمزکرنا ہوںگی
وفاقی وزیرخزانہ نےکہاکہ حکومت جوکچھ دےرہی ہےقرضے لیکردے رہی ہے دیکھنا ہو گا حکومت کے اخراجات کم کیوں نہیں ہورہے،حکومت جوبھی دے رہی ہے قرضے لیکردے رہی ہے ،
اگست میں این ایف سی کمیشن بلا کر چیزوں کودیکھا جائے گا مرحلہ وارڈیجیٹل اکانومی کی طرف بڑھتے جائیں گے مانتے ہیں تنخواہ دار طبقے پرحد سے زیادہ بوجھ پڑا ۔۔عوام کوریلیف دینے کا سفر جاری رکھیں گے، جن شعبوں میں اضافی بوجھ پڑا، انہیں ریلیف دیںگے ۔۔