برطانیہ کا پناہ گزینوں کے لیے نئے اور محفوظ قانونی راستوں کا اعلان
لندن: برطانوی حکومت نے غیر قانونی طریقوں اور چھوٹی کشتیوں (ڈنکی) کے ذریعے ملک میں داخلے کے رجحان کو روکنے کے لیے پناہ گزینوں کے لیے نئے، محدود اور محفوظ قانونی راستے متعارف کرانے کا بڑا اعلان کیا ہے۔ اس نئے نظام کے تحت پہلی بار جامعات، کاروباری اداروں، آجروں اور کمیونٹی تنظیموں کو اہل پناہ گزینوں کی اسپانسر شپ کرنے کی اجازت دی جائے گی۔
برطانوی وزارتِ داخلہ کے مطابق، یہ نیا امیگریشن نظام کینیڈا کے کامیاب ‘کمیونٹی اسپانسر شپ ماڈل’ سے متاثر ہو کر تیار کیا گیا ہے۔ اس کے تحت مستند ادارے اقوام متحدہ یا دیگر منظور شدہ ذرائع سے منتخب کیے گئے حقیقی پناہ گزینوں کو قانونی طور پر برطانیہ منتقل کرنے میں مدد فراہم کر سکیں گے۔

تین بڑے قانونی راستے
حکومت کی جانب سے متعارف کرائی جانے والی اس نئی اسکیم کے تحت تین اہم نوعیت کے پروگرام شامل ہیں:
کمیونٹی اسپانسر شپ پروگرام: اس کے تحت برطانیہ میں رجسٹرڈ کمیونٹی اور فلاحی تنظیمیں حقیقی پناہ گزینوں کی کفالت اور دیکھ بھال کی ذمہ داری اٹھا سکیں گی۔
یونیورسٹی اسپانسر شپ پروگرام: برطانوی جامعات کو یہ اختیار دیا جائے گا کہ وہ اہل پناہ گزین طلبہ کو اعلیٰ تعلیم کے لیے اسپانسر کر کے برطانیہ لا سکیں۔ اس پروگرام کے لیے درخواستوں کا آغاز رواں سال (2026) کے آخر میں ہوگا، جبکہ پہلے مرحلے میں منتخب افراد کی برطانیہ آمد 2027 میں متوقع ہے۔
ورک اسپانسر شپ پروگرام: بعض برطانوی آجر مخصوص شرائط و ضوابط کو پورا کرتے ہوئے پناہ گزینوں کو روزگار اور ملازمت کی بنیاد پر برطانیہ لا سکیں گے۔ اس پروگرام کو اگلے سال سے مرحلہ وار شروع کیا جائے گا۔
ان نئے قانونی راستوں کے تحت برطانیہ آنے والے افراد کی تعداد انتہائی محدود ہوگی اور ہر درخواست گزار کو سخت سیکیورٹی اور اہلیت کی جانچ پڑتال کے عمل سے گزرنا ہوگا۔
وزیرِ داخلہ شبانہ محمود کا بیان
برطانیہ کی وزیرِ داخلہ شبانہ محمود نے پالیسی کی وضاحت کرتے ہوئے کہا:“حکومت حقیقی پناہ گزینوں کے لیے قانونی دروازے کھولے گی، لیکن ایسے تمام راستوں کو سختی سے بند کر دیا جائے گا جن سے ماضی میں نظام کا ناجائز فائدہ اٹھایا جاتا رہا ہے۔ برطانیہ جنگ، ظلم و ستم اور انسانی بحرانوں سے متاثرہ افراد کو تحفظ فراہم کرنے کی اپنی روایت برقرار رکھے گا، تاہم امیگریشن نظام کو منصفانہ، منظم اور عوامی اعتماد کے مطابق بنانا بھی ناگزیر ہے۔”

جعلی درخواستوں کے خلاف سخت قوانین اور سیکیورٹی اقدامات
نئے راستے متعارف کرانے کے ساتھ ساتھ برطانوی حکومت نے امیگریشن قوانین کو مزید سخت کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔
انسانی حقوق اور جدید غلامی سے متعلق قوانین میں تبدیلیاں کی جا رہی ہیں تاکہ جعلی یا بے بنیاد پناہ کی درخواستوں کی حوصلہ شکنی کی جا سکے۔
مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث یا جعلی دستاویزات استعمال کرنے والے افراد کو کسی قسم کا قانونی تحفظ حاصل نہیں ہوگا اور ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔
خاندانی بنیادوں پر دی جانے والی امیگریشن کے دائرہ کار کو بھی مزید محدود کیا جا رہا ہے۔
امیگریشن ماہرین کی اہم وضاحت
امیگریشن ماہرین نے واضح کیا ہے کہ یہ نئی اسکیم عام ورک ویزا، اسٹوڈنٹ ویزا یا وزٹ ویزا کے خواہش مند عام شہریوں کے لیے نہیں ہے۔ یہ سہولت صرف اور صرف ان افراد کے لیے مخصوص ہے جو بین الاقوامی قوانین کے تحت باقاعدہ ‘پناہ گزین قرار دیے جا چکے ہوں اور حکومت کے مقررہ معیار پر پورا اترتے ہوں۔ اس لیے اسے برطانیہ کی عام امیگریشن یا ورک ویزا پالیسی میں کسی قسم کی نرمی تصور نہ کیا جائے۔