یوکرین پر روس کا بڑا فضائی حملہ، دارالحکومت کیئف میں 21 افراد ہلاک
کیئف: روس کی جانب سے یوکرین کے دارالحکومت کیئف اور دیگر شہروں پر ڈرونز اور میزائلوں سے شدید بمباری کی گئی ہے، جس کے نتیجے میں کم از کم 21 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہو گئے ہیں۔ کیئف کے میئر ویٹالی کلیٹسکو نے اسے گزشتہ چار سالوں کے دوران دارالحکومت پر ہونے والا سب سے ہلاکت خیز فضائی حملہ قرار دیا ہے۔
حملے کی تفصیلات
یوکرینی حکام کے مطابق روس نے اس حملے میں تقریباً 500 ڈرونز اور 70 سے زائد کروز اور بیلسٹک میزائل استعمال کیے۔
حملے کے باعث کیئف کے متعدد اضلاع میں رہائشی عمارتیں اور ایک ہوٹل شدید متاثر ہوئے، جبکہ دریائے ڈنیپرو کے کنارے واقع ایک 9 منزلہ رہائشی عمارت کا بڑا حصہ ملبے کا ڈھیر بن گیا۔
فضائی حملے کے خوف سے 50,000 سے زائد شہریوں نے رات میٹرو اسٹیشنز میں پناہ لے کر گزاری۔
ردِعمل اور پس منظر
یوکرینی صدر وولودیمیر زیلنسکی نے اپنے اتحادیوں سے ایک بار پھر فضائی دفاعی نظام (Air Defence) کی فراہمی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر وعدے کے مطابق میزائل فراہم کیے جاتے تو یہ نقصان نہ ہوتا۔ دوسری جانب روس کا دعویٰ ہے کہ یہ حملہ یوکرین کی جانب سے روسی آئل ریفائنریوں پر کیے گئے حالیہ ڈرون حملوں کا جواب تھا، جس کی وجہ سے روس کے کئی علاقوں میں ایندھن کی شدید قلت پیدا ہو گئی ہے۔
حملے کے بعد کیئف میں جمعہ کو یومِ سوگ منانے کا اعلان کیا گیا ہے