vni.global
Viral News International

رات دیر تک جاگنے کی عادت؛ صحت کے لیے ایک خاموش قاتل

جدید دور کی مصروفیات، سوشل میڈیا کا بڑھتا ہوا استعمال اور بدلی ہوئی طرزِ زندگی نے انسان سے اس کی پرسکون نیند چھین لی ہے۔ طبی ماہرین کے مطابق، رات دیر تک جاگنے اور نیند پوری نہ کرنے کی عادت انسان کو کئی خطرناک اور جان لیوا بیماریوں کی طرف دھکیل رہی ہے۔

طبی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ ایک بالغ انسان کے لیے روزانہ 7 سے 8 گھنٹے کی پرسکون نیند انتہائی ضروری ہے۔ اس سے کم نیند لینا انسانی جسم اور دماغ پر بدترین اثرات مرتب کرتا ہے۔


رات دیر تک جاگنے کے چند بڑے نقصانات

دماغی صلاحیتوں میں کمی اور یادداشت کی کمزوری: دیر تک جاگنے سے انسانی دماغ کو آرام نہیں مل پاتا، جس کے نتیجے میں سوچنے، سمجھنے اور فیصلے کرنے کی صلاحیت شدید متاثر ہوتی ہے۔ ماہرین کے مطابق، نیند کی کمی یادداشت کو کمزور کرتی ہے اور انسان روزمرہ کے کاموں پر توجہ مرکوز نہیں کر پاتا۔

دل کے امراض اور بلڈ پریشر کا خطرہ: رات کو دیر تک جاگنے سے جسم میں تناؤ پیدا کرنے والے ہارمونز (جیسے کورٹیسول) کی مقدار بڑھ جاتی ہے۔ یہ ہارمون بلڈ پریشر کو بڑھاتا ہے، جو آگے چل کر دل کے دورے (ہارٹ اٹیک) اور فالج جیسے جان لیوا امراض کا سبب بن سکتا ہے۔

موٹاپا اور ذیابیطس (شوگر): جب ہم رات کو دیر تک جاگتے ہیں، تو جسم میں بھوک بڑھانے والے ہارمونز متحرک ہو جاتے ہیں، جس کی وجہ سے دیر گئے فاسٹ فوڈ یا میٹھی چیزیں کھانے کی کریونگ (طلب) ہوتی ہے۔ یہ عادت تیزی سے وزن بڑھانے (موٹاپے) اور ٹائپ ٹو ذیابیطس کا شکار بناتی ہے۔

قوتِ مدافعت  کی کمزوری: دورانِ نیند ہمارا جسم ایسے پروٹینز (سائٹوکائنز) تیار کرتا ہے جو انفیکشن اور بیماریوں کے خلاف لڑتے ہیں۔ نیند پوری نہ ہونے سے جسم کا دفاعی نظام کمزور پڑ جاتا ہے، اور انسان معمولی نزلہ زکام سے لے کر بڑی بیماریوں کا آسانی سے شکار ہو جاتا ہے۔

نفسیاتی مسائل (ڈپریشن اور چڑچڑاپن): مسلسل نیند کی کمی کا براہِ راست تعلق ذہنی صحت سے ہے۔ رات کو نہ سونے والے افراد میں چڑچڑاپن، اینگزائٹی (بے چینی) اور ڈپریشن کے اثرات دیگر لوگوں کی نسبت کہیں زیادہ دیکھے گئے ہیں۔

جلد کا مرجھانا اور وقت سے پہلے بڑھاپا: خوبصورتی اور صحت مند جلد کا راز بھی گہری نیند میں چھپا ہے۔ دیر تک جاگنے سے آنکھوں کے گرد سیاہ حلقے (ڈارک سرکلز) بن جاتے ہیں اور جلد اپنی رونق کھو دیتی ہے، جس سے انسان وقت سے پہلے بوڑھا نظر آنے لگتا ہے۔

ماہرین کی رائے اور بچاؤ کی تدابیر

طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈیجیٹل اسکرینز (موبائل، لیپ ٹاپ، ٹی وی) سے نکلنے والی نیلی روشنی (Blue Light) نیند لانے والے ہارمون “میلاٹونین” کو بننے سے روکتی ہے۔ اس لیے صحت مند زندگی کے لیے درج ذیل اصولوں کو اپنانا ضروری ہے:

ایک وقت مقرر کریں: روزانہ رات کو ایک ہی وقت پر سونے اور صبح جلدی اٹھنے کی عادت ڈالیں۔

اسکرین سے دوری: سونے سے کم از کم ایک گھنٹہ پہلے تمام ڈیجیٹل آلات کا استعمال بند کر دیں۔

کافی اور چائے کا کم استعمال: شام کے بعد کیفین (چائے یا کافی) لینے سے پرہیز کریں کیونکہ یہ نیند کو اڑا دیتی ہے۔

پرسکون ماحول: سونے کے کمرے میں اندھیرا اور خاموشی رکھیں تاکہ گہری اور پرسکون نیند آ سکے۔

You might also like
Leave A Reply

Your email address will not be published.