vni.global
Viral News International

پاکستان کی فیملی کورٹس میں طلاق اور خلح کے بڑھتے کیسز

  • اسلام آباد( وی این آئی رپورٹ)گزشتہ دہائی کے دوران پاکستان کے سماجی و خاندانی ڈھانچے میں اہم تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں۔ ان میں سب سے نمایاں تبدیلی فیملی کورٹس میں خلع اور طلاق کے مقدمات میں مسلسل اور تیز رفتار اضافہ ہے۔ ماضی کے برعکس جہاں طلاق کو ایک شدید سماجی عیب سمجھا جاتا تھا، اب عورتوں اور مردوں دونوں کی جانب سے ناخوشگوار یا پرتشدد رشتہ ازدواج کو قانونی طریقے سے ختم کرنے کے رجحان میں اضافہ ہوا ہے۔

وفاقی و صوبائی فیملی کورٹس میں کیسز کی بڑھتی ہوئی تعداد بدلتے ہوئے سماجی و معاشی حالات، خواتین میں قانونی شعور کی بیداری، مالی خود مختاری اور گھریلو و معاشی دباؤ کی نشاندہی کرتی ہے۔

Expert Christian Divorce Lawyer | Christian Lawyers

عدالتی اعداد و شمار اور علاقائی رجحانات

الف) اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری )

اسلام آباد میں آبادی کی تناسب کے لحاظ سے خاندانی تنازعات میں سب سے زیادہ اضافہ دیکھا گیا ہے

روزانہ کی بنیاد پر فائلنگ: اسلام آباد کی فیملی کورٹس میں روزانہ اوسطاً 300 سے زائد فیملی کیسز (طلاق، خلع، نفقہ/خرچہ، اور بچوں کی حضانت) دائر کیے جا رہے ہیں۔

سالانہ کیسیز: دارالحکومت کی فیملی کورٹس میں سالانہ 45,000 سے زائد طلاق اور خلع سے متعلق مقدمات ریکارڈ کیے گئے ہیں۔

شہری عوامل: اسلام آباد میں خواتین کی اعلیٰ تعلیم اور ملازمت کا تناسب زیادہ ہے، جس کی وجہ سے قانونی چارہ جوئی کا رجحان دیہی علاقوں سے کہیں زیادہ ہے۔

ب) دیگر صوبائی رجحانات

پنجاب: فیملی کورٹس کے ریکارڈز کے مطابق سالانہ خلع کے کیسز 16,942 سے بڑھ کر 18,900 سے تجاوز کر چکے ہیں اور یہ گراف مسلسل اوپر جا رہا ہے۔

سندھ (کراچی): کراچی کی سول کورٹس میں سالانہ 11,000 سے 15,000 کے درمیان خاندانی تنازعات کے مقدمات درج ہو رہے ہیں۔

گیلپ /  سروے: سروے کی رپورٹس کے مطابق اگرچہ طلاق یافتہ افراد کا کل آبادی میں فیصد ابھی کم ہے، لیکن سالانہ بنیادوں پر اس کی شرح میں مسلسل اضافہ درج کیا جا رہا ہے۔

What could be causing Pakistani couples to drift apart from each other?

 طلاق کی شرح میں اضافے کے بنیادی اسباب

 معاشی و اقتصادی دباؤ

مہنگائی اور بے روزگاری: روزمرہ اخراجات میں بے پناہ اضافہ اور گھریلو معاشی مشکلات میاں بیوی کے درمیان جھگڑوں اور کشیدگی کی بڑی وجہ بنتے ہیں۔

خواتین کی مالی آزادی: خواتین کا ملازمت پیشہ ہونا انہیں مالی طور پر خود مختیار بناتا ہے، جس کے باعث وہ پرتشدد یا غیر ذمہ دارانہ تعلق میں رہنے کے بجائے خلع کو ایک حل کے طور پر دیکھتی ہیں۔

 قانونی طریقہ کار کی آسانی

فیملی کورٹس ایکٹ کی شق 10(4): قانونی اصلاحات کی بدولت خلع کا طریقہ کار پہلے سے تیز اور آسان ہو گیا ہے، جس سے کیسز کا فیصلہ جلد ممکن ہو پاتا ہے۔

قانونی آگاہی: میڈیا اور سماجی تنظیموں کی وجہ سے خواتین کو نکاح نامے کے حقوق اور قانونی چارہ جوئی سے متعلق زیادہ معلومات حاصل ہیں۔

 سماجی اور روایتی تبدیلیاں

مشترکہ خاندانی نظام میں مداخلت: سسرال یا رشتہ داروں کی بے جا مداخلت رشتہ ازدواج کے ٹوٹنے کی ایک اہم اور عام وجہ ہے۔

گھریلو تشدد: جسمانی، ذہنی اور جذباتی استحصال کی صورت میں خواتین اب خاموش رہنے کی بجائے علیحدگی کا انتخاب کر رہی ہیں۔

سوشل میڈیا اور عدم اعتماد: جدید تکنیکی ذرائع، پرائیویسی کے مسائل، اور باہمی اعتماد کی کمی بھی جدید تنازعات کا سبب بن رہی ہے۔

Islamabad Family Courts See Surge in Divorce Cases - Pakistan Today

عدالتی نظام کو درپیش چیلنجز

مقدمات کا التوا : کیسز کی کثرت کی وجہ سے عدالتوں پر شدید دباؤ ہے، جس کے باعث خرچے (نفقہ) اور بچوں سے ملاقات کے فیصلوں میں تاخیر ہو جاتی ہے۔

غیر موثر مصالحتی طریقہ کار: عدالت کی جانب سے پری ٹرائل مصالحت کی کوششیں اکثر محض ایک رسمی کارروائی تک محدود رہتی ہیں اور موثر کونسلنگ فراہم نہیں کر پاتیں۔

نفقہ کی عدم وصولی: عدالتی احکامات کے باوجود بچوں کے اخراجات کی وقت پر وصولی نہ ہونا اکیلی ماؤں کے لیے مالی مشکلات کا باعث بنتا ہے۔

نتیجہ: پاکستان اور خاص طور پر اسلام آباد میں طلاق کیسز میں اضافہ جہاں خواتین کے اپنے حقوق کے لیے کھڑے ہونے کی نشاندہی کرتا ہے، وہاں یہ ہمارے خاندانی نظام پر بڑھتے ہوئے معاشی اور سماجی دباؤ کا بھی ثبوت ہے۔ اس صورتحال میں قبل از نکاح کونسلنگ اور موثر مصالحتی اداروں کی تشکیل ناگزیر ہو چکی ہے۔

You might also like
Leave A Reply

Your email address will not be published.