ایران کا اسرائیل پر حملے روکنے کا اعلان
اسرائیل کو سخت اور درد ناک ردعمل دیا جس سے صہیونی حکومت اور اس کے حامیوں کو سبق سیکھنا چاہیے‘،
ایران کے مرکزی فوجی ہیڈکوارٹر “خاتم الانبیاء” نے پیر (8 جون 2026) کو جاری کردہ ایک سرکاری بیان میں اسرائیل کے خلاف اپنی تمام فوجی کارروائیاں معطل کرنے کا اعلان کیا ہے۔ العربیہ کی رپورٹ کے مطابق، ایرانی فوج کا کہنا ہے کہ انہوں نے لبنان کے مظلوم عوام کی حمایت اور اسرائیلی جارحیت کے جواب میں صہیونی حکومت کو “دردناک جواب” دے دیا ہے اور فی الحال کارروائی روک دی گئی ہے۔
تاہم، ایرانی فوجی ترجمان نے واشنگٹن اور تل ابیب کو خبردار کرتے ہوئے کہا:ہم دشمن کے سامنے سر نہیں جھکائیں گے۔ اگر اسرائیل کی جانب سے جارحیت کا سلسلہ برقرار رہا—بالخصوص جنوبی لبنان میں—تو ایران کا اگلا جوابی حملہ پہلے سے کہیں زیادہ طاقتور اور ہولناک ہوگا۔”
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کردار اور امن مذاکرات

بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق، اس اچانک جنگ بندی کے پیچھے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کلیدی کردار ہے۔ ٹرمپ نے دونوں ممالک پر زور دیا تھا کہ وہ فوری طور پر ایک دوسرے پر “فائرنگ” بند کریں۔
وائٹ ہاؤس کے مطابق، صدر ٹرمپ نے اسرائیلی قیادت اور پسِ پردہ ایرانی حکام سے رابطہ کیا، جس کے بعد دونوں فریقین نے ہتھیار ڈالنے پر رضامندی ظاہر کی۔
دفاع کا حق رکھتے ہیں، ایران نے دوبارہ حملہ کیا تو بھرپور جواب دینگے: یاہو

سرکاری ٹی وی پر جاری اپنے بیان میں نیتن یاہو نے کہا کہ تہران کو نشانہ بنانے کے بعد ایران نے اسرائیل پر حملے روک دیے، تاہم اگر ایران نے دوبارہ حملے کرنے کی غلطی دہرائی تو اسرائیل پوری قوت کے ساتھ جواب دے گا۔انہوں نے کہا کہ اسرائیل کو اپنے دفاع کا مکمل حق حاصل ہے اور ضرورت پڑنے پر وہ اس حق کا استعمال بھی کرے گا۔
اسرائیلی وزیرِ اعظم کا مزید کہنا تھا کہ انہوں نے یہ مؤقف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ ہونے والی ملاقاتوں اور گفتگو میں بھی احترام کے ساتھ پیش کیا ہے۔
نیتن یاہو کے مطابق اسرائیل اپنی سلامتی اور دفاع کے معاملے پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا اور ہر ممکن خطرے کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہے۔
جنگ بندی کی خلاف ورزیاں عدم اعتماد کو بڑھا رہی ہیں: محمد باقر قالیباف

ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر اور مذاکراتی وفد کے سربراہ محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ کاغذی جنگ بندی اور زمینی حقائق میں اس کی مسلسل خلاف ورزیوں نے موجودہ صورتحال کے تضادات کو واضح کر دیا ہے۔
اپنے بیان میں محمد باقر قالیباف نے مؤقف اختیار کیا کہ جب تک اعتماد سازی کے لیے حقیقی اور سنجیدہ نیت کا مظاہرہ نہیں کیا جاتا، ایران کا ردعمل موجودہ انداز میں جاری رہے گا۔
انہوں نے کہا کہ جنگ بندی سے متعلق معاہدوں اور عملی صورتِ حال کے درمیان پایا جانے والا فرق خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا رہا ہے، جبکہ موجودہ طرزِ عمل فریقین کے درمیان عدم اعتماد کو گہرا کر رہا ہے۔
باقر قالیباف کے مطابق پائیدار امن اور استحکام کے لیے ضروری ہے کہ تمام فریق اپنی ذمہ داریوں پر عمل کریں اور اعتماد سازی کے عملی اقدامات اٹھائیں۔