ایران کے ساتھ معاہدہ آخری مراحل میں ہے،ٹرمپ کا دعوی
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان ایک بڑا امن معاہدہ طے پانے کے بالکل قریب ہے، جس کے بعد دونوں ممالک کم از کم ایک ہفتے کے لیے ایک دوسرے پر حملے مکمل طور پر روک دیں گے۔
صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکہ اس وقت ایک “انتہائی بہترین معاہدے کے آخری مراحل” میں ہے اور معاہدے پر دستخط ہوتے ہی بین الاقوامی تجارت کے لیے انتہائی اہم بحری گزرگاہ آبنائے ہارمز کو فوری طور پر کھول دیا جائے گا، جس میں صرف دو سے تین دن لگ سکتے ہیں۔
نیتن یاہو کو ٹرمپ کی سخت تنبیہ
صدر ٹرمپ نے اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کو سخت الفاظ میں خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر اسرائیل نے ایران پر اپنے حملے بند نہ کیے تو وہ بین الاقوامی سطح پر تنہا رہ جائے گا۔ ٹرمپ نے نیتن یاہو کو مخاطب کرتے ہوئے کہا:”بیبی تمہیں اب محتاط رہنا ہوگا، ورنہ بہت جلد تم اپنے بل بوتے پر بالکل اکیلے کھڑے ہوگے۔
ٹرمپ نے اپنی سوشل میڈیا ایپ ‘تھروتھ سوشل’ پر بھی دونوں فریقین سے فوری جنگ بندی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ایران پر بمباری کرنے کے بجائے امریکی بحری ناکہ بندی زیادہ مؤثر ثابت ہوئی، جس نے ایران کو مذاکرات کی میز پر آنے پر مجبور کیا۔
پاکستان کا کلیدی سفارتی کردار
ایران کے سفیر برائے اقوامِ متحدہ امیر سعید ایروانی نے تصدیق کی ہے کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان پاکستان کے ذریعے بالواسطہ مذاکرات اور خیالات کا تبادلہ تیزی سے جاری ہے۔ پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ایک پرامن سفارتی حل کے لیے کوششیں انتہائی سنجیدگی اور محنت سے جاری ہیں اور انہوں نے دونوں فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی ہے کیونکہ حتمی ہدف حاصل ہونے کے بالکل قریب ہے۔