پاکستان ایران کا دوطرفہ تجارت 10 ارب ڈالر تک بڑھانے کا عزم
پاکستان اور ایران نے اسلام آباد میں ہونے والے مشترکہ تجارتی کمیٹی کے 10ویں اجلاس کے دوران دوطرفہ تجارت کو 10 ارب ڈالر تک پہنچانے کے اپنے عزم کا اعادہ کیا ہے۔
اجلاس کی مشترکہ صدارت پاکستان کے وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان اور ایران کے وزیر صنعت، کان و تجارت محمد اتابک نے کی، جبکہ ایرانی وفد کے ساتھ 16 رکنی تاجروں پر مشتمل ایک وفد بھی موجود تھا۔
گفتگو کے دوران دونوں ممالک نے پاک ایران آزاد تجارتی معاہدے کو جلد حتمی شکل دینے اور سرحدی لاجسٹکس، کسٹمز، کارگو نقل و حرکت اور بنکاری تعلقات کے راستے میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے پر زور دیا۔
ایرانی وزیر محمد اتابک نے گوادر اور کراچی کی بندرگاہوں کے ذریعے لاجسٹک تعاون کو وسعت دینے اور بجلی کی تجارت سمیت علاقائی رابطوں کو مضبوط بنانے پر دلچسپی ظاہر کی، جب کہ انہوں نے حال ہی میں امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ تنازع کی صورت حال میں پاکستان کے اصولی موقف اور سفارتی کوششوں کا بھی شکریہ ادا کیا۔
وزیر تجارت جام کمال خان نے کہا کہ سرحدی منڈیوں کے قیام اور الیکٹرانک ڈیٹا کے تبادلے سے دوطرفہ تجارت میں نمایاں پیش رفت ممکن ہوگی تاکہ تاریخی برادرانہ تعلقات کو ایک پائیدار معاشی شراکت داری میں ڈھالا جا سکے۔