vni.global
Viral News International

پاکستان معاشی ترقی کی طرف چل پڑا ہے،معاشی استحکام سے گروتھ کی جانب بڑھیں گے،وزیر خزانہ

وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ حکومت نے مالی سال 27-2026 کے وفاقی بجٹ میں برآمدات کے فروغ اور ٹیکس نظام کی بہتری پر خصوصی توجہ دی ہے تاکہ ملکی معیشت کو پائیدار بنیادوں پر استوار کیا جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ معیشت اب درست سمت میں گامزن ہے اور ہم بہت جلد معاشی استحکام سے پائیدار گروتھ (ترقی) کی جانب بڑھیں گے۔

وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی، وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ اور چیئرمین ایف بی آر راشد لنگڑیال کے ہمراہ پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے بجٹ کے اہم خدوخال اور حکومتی ترجیحات پر روشنی ڈالی۔

بجٹ کی اہم خصوصیات اور معاشی اقدامات

  • عوامی ریلیف اور سبسڈی: محدود وسائل کے باوجود حکومت نے عوام دوست بجٹ پیش کیا ہے، جس میں عوامی ریلیف کے لیے 70 ارب روپے کی اضافی سبسڈی فراہم کی گئی ہے۔

  • آئی ٹی اور فری لانسرز کے لیے خوشخبری: آئی ٹی برآمدات کو بڑھا کر 4 ارب 50 کروڑ ڈالر تک پہنچانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ آئی ٹی انڈسٹری اور فری لانسرز کے لیے ایف ٹی آر (FTR) کو برقرار رکھا گیا ہے۔

  • زراعت اور کسانوں کے لیے پیکج: کسانوں کے لیے ‘ذرخیزی سکیم’ متعارف کرائی گئی ہے۔ زرعی مشینری اور آلات پر کسٹم اور ریگولیٹری ڈیوٹیز کو زیرو (0%) کر دیا گیا ہے، جبکہ زرعی قرضوں کا حجم 20 ارب روپے سے تجاوز کر گیا ہے۔

  • سپر ٹیکس کا خاتمہ: وزیراعظم اور کابینہ کے ارکان نے اتفاق کیا ہے کہ تمام ایکسپورٹرز کے لیے سپر ٹیکس کو ختم کیا جائے گا۔

  • نوجوانوں اور مڈل کلاس کے لیے اقدامات: نوجوانوں کے لیے ‘وزیراعظم یوتھ لون’ مختص کیا گیا ہے، جبکہ مڈل کلاس طبقے کے لیے ‘اپنا گھر سکیم’ متعارف کرائی گئی ہے تاکہ لوگ آسانی سے گھر بنا سکیں۔

مالی سال 2026/27کا 18 ہزار ارب روپے سے زائد کا وفاقی بجٹ پیش

تنخواہ دار طبقے کو ریلیف دینا پہلی ترجیح تھی: بلال کیانی

وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی نے کانفرنس میں بتایا کہ بجٹ کی تیاری میں ملک بھر کے چیمبرز آف کامرس سے مشاورت کی گئی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ:

سالانہ 6 لاکھ روپے تک کمانے والوں پر کوئی ٹیکس نہیں ہوگا۔

 چھ لاکھ سے 12 لاکھ روپےسالانہ آمدنی پر محض 1 فیصد ٹیکس عائد کیا گیا ہےہے  ۔

کم تنخواہ والے طبقے پر ٹیکس کی شرح کو کم کیا گیا ہے (مثلاً 5 فیصد سے 1 فیصد اور 15 فیصد سے 13 فیصد)، جبکہ بڑی تنخواہوں پر سرچارج عائد کیا گیا ہے۔

اس کے علاوہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے بجٹ میں 17 فیصد تک کا نمایاں اضافہ کیا گیا ہے۔

‘تنکا تنکا جوڑ کر گنجائش پیدا کی’، عطا اللہ تارڑ

وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ کا کہنا تھا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے عوام سے کیا گیا وعدہ پورا کر دیا ہے۔ ایک وقت تھا جب ملک کے ڈیفالٹ ہونے کی پیش گوئیاں کی جا رہی تھیں، لیکن معاشی ٹیم نے ناممکن کو ممکن کر دکھایا۔ انہوں نے بتایا کہ ایف بی آر کی ڈیجیٹائزیشن براہِ راست وزیراعظم کی نگرانی میں ہوئی ہے جس سے سفارش کلچر کا خاتمہ ہوا ہے اور ٹیکس چوری (لیکج) میں کمی کا آغاز شوگر انڈسٹری سے کر دیا گیا ہے۔

غربت کا خاتمہ صرف ایکسپورٹ سے ممکن ہے: چیئرمین ایف بی آر

چیئرمین ایف بی آر راشد لنگڑیال نے پریس کانفرنس میں واضح کیا کہ یہ بجٹ “ایکسپورٹ لیڈ گروتھ” (برآمدات پر مبنی ترقی) کا بجٹ ہے۔ پاکستان چیزیں فروخت کرنے کے لیے ایک چھوٹی مارکیٹ ہے، جب تک ہماری فیکٹریوں میں بنی اشیاء بیرون ملک فروخت نہیں ہوں گی، ملک سے غربت کا خاتمہ ممکن نہیں ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایف بی آر اور ‘پرال’  میں جدید ٹیکنالوجی سے لیس نوجوان افسران کو لایا جا رہا ہے تاکہ ٹیکس نظام کو مکمل ڈیجیٹلائز کیا جا سکے۔

You might also like
Leave A Reply

Your email address will not be published.