یورپی یونین اور طالبان میں خفیہ بات چیت،افغان خواتین کا احتجاج
برسلز میں یورپی یونین (EU) کے حکام اور طالبان کے وفد کے درمیان ہونے والی حالیہ ملاقات پر افغان خواتین اور انسانی حقوق کے علمبرداروں کی جانب سے شدید ردعمل اور غصے کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
ملاقات کا مقصد اور تنازعہ
یورپی یونین کے حکام نے تصدیق کی ہے کہ یہ ملاقات بیلجیم کے دارالحکومت برسلز میں ہوئی، جس کا بنیادی مقصد ایسے افغان تارکین وطن کی واپسی کو تیز کرنا ہے جو غیر قانونی طور پر یورپ میں مقیم ہیں یا جنہیں سیکورٹی کے لیے خطرہ سمجھا جاتا ہے۔ تاہم، ناقدین کا کہنا ہے کہ طالبان حکام کو بھیجے گئے دعوتی خط میں عام افغان پناہ گزینوں کا ذکر بھی شامل تھا۔

افغان خواتین اور مبصرین کا ردعمل
میڈیا ہاؤس ‘زن ٹائمز’ کی ایڈیٹر ان چیف زہرا نادر سمیت کئی افغان خواتین نے اس ملاقات کو افغان خواتین کے منہ پر ایک “زوردار طمانچہ” قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ:
پانچ سال سے افغان خواتین کو بنیادی حقوق، تعلیم (11 سال سے زائد عمر کی لڑکیوں کے لیے) اور ملازمتوں سے محروم رکھا گیا ہے۔
یورپی یونین ایک طرف ان مظالم کی مذمت کرتی ہے اور دوسری طرف اسی حکومت کے ساتھ مذاکرات کی میز پر بیٹھ کر اسے ایک طرح سے تسلیم کر رہی ہے۔
یورپی یونین کا مؤقف
یورپی حکام کا اصرار ہے کہ اس ملاقات کا مطلب طالبان حکومت کو تسلیم کرنا ہرگز نہیں ہے، بلکہ یہ صرف ہجرت اور سیکورٹی سے متعلق امور پر ایک تکنیکی بات چیت تھی۔ تاہم، اس ملاقات کی جگہ کو خفیہ رکھا گیا اور طالبان کے وفد نے قونصلر خدمات کی ممکنہ بحالی پر بھی بات چیت کا دعویٰ کیا ہے۔
پس منظر
یورپی پارلیمنٹ میں دائیں بازو کی جماعتوں کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کے باعث پناہ گزینوں کے خلاف قوانین کو سخت کیا جا رہا ہے۔ دوسری جانب اقوام متحدہ کی رپورٹس بتاتی ہیں کہ ماضی میں پاکستان اور ایران سے واپس بھیجے گئے کئی افغانوں کو طالبان کے ہاتھوں گرفتاری، تشدد اور ناروا سلوک کا سامنا کرنا پڑا ہے، جبکہ افغانستان اس وقت شدید انسانی اور غذائی بحران کی گرفت میں ہے۔