اسرائیل کا لبنان سے انخلا، وہاں حملے روکنا امریکا کی ذمہ داری ہے، ایران
خلیجی ممالک بیرونی مداخلت کے بغیر سکیورٹی فریم ورک تشکیل دیں: ایران
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے مشرقِ وسطیٰ میں امریکی اڈوں پر ایرانی حملوں کے جواب میں خلیجی ممالک سے ایک مشترکہ سکیورٹی فریم ورک قائم کرنے کی اپیل کی ہے۔ عراق کے دورے کے موقع پر عراقی وزیر خارجہ فواد حسین کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے ایرانی وزیر خارجہ نے زور دیا کہ خطے کے تمام ممالک کو مل کر ایک نیا سکیورٹی فریم ورک تشکیل دینا چاہئے، جس میں خطے سے باہر کے کسی بھی ملک کی موجودگی یا مداخلت شامل نہ ہو۔ انہوں نے واضح کیا کہ آبنائے ہرمز آئندہ 30 روز تک مکمل طور پر ایران کی نگرانی میں رہے گی اور خلیج میں بحری آمدورفت کی بحالی میں کسی بھی دوسرے فریق کی مداخلت معاملات کو مزید پیچیدہ بنا دے گی۔
عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ یہ جنگ پورے خطے کے لیے نقصان دہ ہے اور اسے محفوظ رکھنے کے لیے تمام ممالک کو مل کر کام کرنا ہوگا۔ انہوں نے تہران اور بغداد کے درمیان سٹریٹجک تعلقات کو وسعت دینے کی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ علاقائی صورتحال کے تناظر میں ان کا دورہ عراق غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے۔ اس موقع پر انہوں نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ اسرائیل کو لبنان کے مقبوضہ علاقوں سے نکل جانا چاہیے اور یہ امریکہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ مفاہمتی یادداشت کے تحت اسرائیل کو لبنان پر حملوں سے روکے۔
دوسری جانب عراقی وزیر خارجہ فواد حسین نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ آبنائے ہرمز کے اطراف اب بھی جھڑپیں ہو رہی ہیں، جس کی بندش سے عراقی تیل کی سپلائی بھی متاثر ہوئی تھی۔ انہوں نے خطے کی حفاظت کے لیے تمام ممالک کے مل کر کام کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ایران پر امریکی و اسرائیلی جارحیت کی ہمیشہ مخالفت کی گئی ہے اور مغربی ایشیا میں سکیورٹی بڑھانے کے لیے عراق ایران سے تعاون کرے گا کیونکہ جنگ کا تسلسل پورے خطے کی تباہی کا سبب بن سکتا ہے۔