سی سی ڈی اہلکار کی فائرنگ سے جاں بحق 9 سالہ ہانیہ کی پوسٹ مارٹم رپورٹ جاری
چکوال (ویب ڈیسک): پنجاب کے ضلع چکوال میں 10 جون کو سی سی ڈی اہلکار کی مبینہ فائرنگ کا نشانہ بننے والی 9 سالہ بچی ہانیہ عدیل کی پوسٹ مارٹم رپورٹ منظرِ عام پر آ گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق بچی کی موت گولیوں کے گہرے زخموں اور شدید صدمے کے باعث دل اور پھیپھڑوں کے کام چھوڑ جانے کی وجہ سے ہوئی۔
رپورٹ کے اہم مندرجات:
جسم پر زخموں کے نشانات: میڈیکو لیگل رپورٹ کے مطابق معصوم ہانیہ کے جسم پر گولیوں کے داخل اور خارج ہونے کے مجموعی طور پر 11 نشانات پائے گئے ہیں۔ گولیوں کے یہ گہرے زخم دائیں چھاتی، پیٹ، ران اور بائیں کہنی پر موجود تھے۔
اندرونی اعضاء شدید متاثر: فائرنگ کے نتیجے میں بچی کا دایاں پھیپھڑا بری طرح متاثر ہوا اور چھاتی میں خون جمع ہو گیا۔ اس کے علاوہ جگر، بڑی اور چھوٹی آنتیں بھی شدید زخمی ہوئیں جبکہ دائیں ران کی ہڈی بھی ٹوٹ گئی۔
یہ بھی پڑھیں
چکوال میں آسٹریلیا سے آئی کم عمر لڑکی قتل ، سی سی ڈی اہلکار گرفتار
شواہد پولیس کے حوالے: ہسپتال انتظامیہ نے بچی کے جسم سے گولی کا ایک دھاتی ٹکڑا برآمد کر کے پولیس کے سپرد کر دیا ہے۔ اس کے علاوہ بچی کے خون آلود کپڑے اور ایکس ریز بھی سیل کر کے تحقیقاتی حکام کے حوالے کر دیے گئے ہیں۔
اینٹی مارٹم زخم: رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ تمام زخم ‘اینٹی مارٹم’ ہیں، یعنی گولیاں موت واقع ہونے سے پہلے لگی تھیں اور زخم اتنے شدید تھے کہ گولی لگنے اور موت کے درمیان وقت ہی نہیں ملا۔
واضح رہے کہ یہ لرزہ خیز واقعہ 10 جون کو پیش آیا تھا جہاں سی سی ڈی اہلکار کی فائرنگ کی زد میں آ کر 9 سالہ ہانیہ احمد (عدیل) جاں بحق اور ان کا خاندان شدید متاثر ہوا تھا۔ ہسپتال انتظامیہ کے مطابق موت اور پوسٹ مارٹم کے درمیان 6 سے 8 گھنٹے کا وقت گزرا۔ پولیس واقعے کی مزید تفتیش کر رہی ہے۔