vni.global
Viral News International

پنجاب کا 5 ہزار 903 ارب روپے سے زائد کا بجٹ پیش

سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں7 فیصد اضافےکی تجویز

پنجاب کا 5 ہزار 903 ارب روپے حجم کا بجٹ پیش، تنخواہوں اور پنشن میں اضافے کی تجویز

لاہور: پنجاب حکومت نے مالی سال 27-2026 کا 5 ہزار 903 ارب روپے حجم پر مشتمل صوبائی بجٹ ایوان میں پیش کر دیا ہے۔ صوبائی وزیر خزانہ میاں مجتبیٰ شجاع الرحمن نے بجٹ تقریر کی، جبکہ اجلاس کی صدارت اسپیکر ملک محمد احمد خان نے کی۔ اس موقع پر وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف بھی ایوان میں موجود تھیں۔

بجٹ اجلاس کے آغاز سے ہی اپوزیشن ارکان نے شدید ہنگامہ آرائی کی، اسپیکر ڈائس کے سامنے پلے کارڈز لہرائے اور “جعلی بجٹ نامنظور” کے نعرے لگائے۔ اپوزیشن کے شدید شور شرابے کے باوجود وزیر خزانہ نے اپنی بجٹ تقریر جاری رکھی۔

💰 تنخواہوں اور پنشن میں ریلیف

بجٹ میں سرکاری ملازمین اور ریٹائرڈ افراد کے لیے درج ذیل ریلیف کی تجویز دی گئی ہے:

تنخواہیں: صوبائی سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 7 فیصد اضافہ۔

پنشن: ریٹائرڈ ملازمین کی پنشن میں 3.5 فیصد اضافہ۔

مختص فنڈز: تنخواہوں کے لیے 650 ارب روپے اور پنشن کی مد میں 505 ارب روپے (مجموعی طور پر 1,155 ارب روپے سے زائد) مختص کیے گئے ہیں۔

📉 کفایت شعاری پالیسی اور بچت

وزیر خزانہ نے بتایا کہ غیر ضروری اخراجات کو کم کرنے کے لیے سخت اقدامات کیے گئے ہیں:

صوبائی کابینہ اور سیکرٹریز نے 3 ماہ کی تنخواہیں اور مراعات نہ لینے کا فیصلہ کیا ہے۔

ارکانِ اسمبلی کی دو ماہ کی تنخواہوں میں 25 فیصد کٹوتی کی گئی ہے۔

سرکاری گاڑیوں کے استعمال میں 60 فیصد تک کمی لائی گئی ہے۔

🚜 کسان اور لائیو اسٹاک پیکیج

زرعی شعبے اور لائیو اسٹاک کی ترقی کے لیے بڑے اعلانات کیے گئے ہیں:

کسان کارڈ: کسان کارڈ پروگرام کے لیے 10 ارب روپے مختص، جس سے 10 لاکھ کسان مستفید ہوں گے۔

گرین ٹریکٹر اسکیم: سبسڈی پر 10 ہزار لو-پاور اور 6 ہزار 500 ہائی-پاور گرین ٹریکٹرز کسانوں کو فراہم کیے جائیں گے۔

لائیو اسٹاک کارڈ: لائیو اسٹاک کارڈ (فیز ٹو) کے لیے 4 ارب 44 کروڑ روپے کے بلاسود قرضے تجویز۔ اس کے علاوہ دیہی خواتین میں دودھ دینے والے جانور تقسیم کرنے کے لیے 3 ارب 12 کروڑ روپے مختص۔

💻 نوجوانوں کے لیے آئی ٹی اور اسکلز پروگرام

اسکلز فار گلوبل نیڈز: عالمی منڈی کی ضروریات کے مطابق 2 لاکھ 40 ہزار نوجوانوں کو تربیت دینے کے لیے 51 ارب روپے مختص، جس میں ‘پرواز کارڈ’ بھی شامل ہے۔

ٹیک اسکلز پروگرام: فرنٹیئر ٹیک اسکلز کے لیے 12 ارب 30 کروڑ روپے اور ایکسیلیریٹ پنجاب ٹیک اسکلز کے لیے 19 ارب 70 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔ ٹیکنالوجی پروگرامز میں خواتین کا 40 فیصد کوٹہ یقینی بنایا جائے گا۔

🚌 ٹرانسپورٹ اور ماحولیات

فیصل آباد اور گوجرانوالہ میں ماس ٹرانزٹ سسٹمز کے لیے 26 ارب 60 کروڑ روپے مختص۔

صوبے بھر کی تحصیلوں میں پبلک ٹرانسپورٹ کے لیے 2 ہزار الیکٹرک بسیں چلانے کا منصوبہ۔

ماحول دوست الیکٹرک گاڑیوں پر ٹوکن ٹیکس کی رعایت 95 فیصد سے بڑھا کر 99 فیصد کرنے کی تجویز۔ سموگ کے خاتمے کے لیے اسکریپ اسکیم بھی متعارف کروائی جائے گی۔

🛡️ سیکیورٹی اور اسمارٹ سیف سٹیز

تحصیل سطح پر نگرانی کے نظام کو وسعت دینے اور امن و امان کے لیے مجموعی طور پر 252 ارب روپے مختص۔

پنجاب کے 19 اضلاع میں ‘اسمارٹ سیف سٹیز’ کے متعدد منصوبوں پر 47 ارب روپے لاگت آئے گی۔

کچے کے علاقوں میں پولیس نظام کی مضبوطی کے لیے 2 ارب 20 کروڑ روپے جبکہ 28 اضلاع میں جدید کرائم سین یونٹس کے قیام کے لیے 14 ارب 21 کروڑ روپے تجویز کیے گئے ہیں۔

🚗 گاڑیوں کے ٹوکن ٹیکس اور رجسٹریشن میں اضافہ (بجٹ تجاویز)

بجٹ میں ریونیو بڑھانے کے لیے گاڑیوں کے سالانہ ٹوکن ٹیکس میں تین گنا تک اضافے کی تجویز دی گئی ہے:

  بائیس سو روپے والا ٹوکن ٹیکس بڑھا کر 6,600 روپے کرنے کی سفارش۔

چار ہزار روپے والا ٹیکس 12,000 روپے، اور 8,000 روپے والا ٹیکس 24,000 روپے کرنے کی تجویز۔

گاڑیوں کی رجسٹریشن اور ملکیت کی منتقلی پر ودہولڈنگ ٹیکس کی شرح میں بھی اضافہ تجویز کیا گیا ہے۔ پراپرٹی ٹیکس کی مینول ادائیگیاں ختم کر کے اسے مکمل طور پر الیکٹرانک بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ یہ بجٹ مسلم لیگ (ن) کی قیادت کے وژن کے مطابق صوبے میں معاشی استحکام اور عوام کو ریلیف فراہم کرنے کی ایک مخلصانہ کوشش ہے۔

You might also like
Leave A Reply

Your email address will not be published.