تم نے وزارت غذائی تحفظ کو وزارت سکینڈل بنادیا ،وزیر اعظم کا رانا تنویر اور متعلقہ افسران پر اظہاربرہمی
وزیراعظم کا پی اے آر سی میں بھرتیوں کے سکینڈل پر ایف آئی اے کو متعلقہ افسران کیخلاف سخت کارروائی کا حکم
تم نے وزارت برائے قومی غذائی تحفظ کو وزارت سکینڈل بنادیا ہے، وزیراعظم شہباز شریف کا وفاقی وزیر رانا تنویر اور وزارت کے دیگر افسران کو وزیراعظم سیکرٹریٹ میں ہونے والی اجلاس میں شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور ایف آئی اے کو ذمہ داران کیخلاف سخت کاروائی کا حکم دیا ہے
وائرل نیوز انٹرنیشنل(وی این آئی) کے مطابق گزشتہ روز وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت وزارت قومی غذائی تحفظ کے اجلاس میں آئی بی کی رپورٹ جس میں وزارت کے ذیلی ادارے پی اے آر سی میں غیر قانونی بھرتیوں کی رپورٹ پیش کی گئی ، ذرائع کے مطابق وزیر اعظم نے غیر قانونی بھرتیوں پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا اس وزارت میں سکینڈل ہی سکینڈل آرہے ہیں ، کبھی کھاد اور آئل ، کبھی چینی اور گندم کے سکینڈلز آرہے ہیں اور اور اب غیر قانونی بھرتیوں کے سکینڈل کا سامنا ہے
، وزیر اعظم شہباز شریف نےغیر قانونی بھرتیوں اور اس میں ہونے والی لوٹ مار پراز خود نوٹس لیتے ہوئے معاملہ ایف آئی اے کے سپرد کرتے ہوئے ذمہ داران کیخلاف فوری کاروائی کا حکم دیا ہے

رپورٹ کے مطابق وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ کے ذیلی ادارے پی اے آر سی میں غیر قانونی اور قواعد سے ہٹ کر 250 اسامیوں کا اخبارات میں اشتہارات جاری کرکے تعیناتیاں عمل میں لائی گئیں ذرائع کے مطابق ان اسامیوں پر 10 لاکھ روپے سے 40 لاکھ روپے تک کی رشوت بھی وصول کی گئی ہے،
پی ار آر سی میں غیر قانونی ملازمین کی بھرتیوں کا معاملہ سامنے آنے پر وزیر اعظم نے وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ رانا تنویر حسین ک اور چیئرمین پی اے آر سی مرتضی حسن اندرابی کو آج طلب کرکے باز پرس کی ذرائع کے مطابق چیئرمین پی اے آر سی نے ان تعیناتیوں کی تمام ذمہ داری کنسلٹنٹ مختار احمد پر ڈال دی،وزیر اعظم نے غیر قانونی بھرتیوں اور اس میں ہونے والی لوٹ مار کی تحقیقات کیلئے ایف آئی اے کوباضابطہ انکوائری کا حکم دیدیا۔
پی اے آر سی میں بھرتیوں سے متعلق اہم حقائق اور انکشافات
قواعد کی سنگین خلاف ورزی: وفاقی وزیر برائے نیشنل فوڈ سیکیورٹی اینڈ ریسرچ کے کنسلٹنٹ مختار احمد اور موجود چیئرمین پی اے آر سی مرتضی حسن اندرابی پر الزام ہے کہ انہوں نے قانون اور طے شدہ ضوابط کو نظر انداز کرتے ہوئے اخبارات میں 250 اسامیوں کے اشتہارات جاری کیے اور من پسند افراد کو تعینات کیا۔
کروڑوں روپے کی رشوت: ذرائع کے مطابق ان اسامیوں پر بھرتیاں کرنے کے عوض 10 لاکھ روپے سے لے کر 40 لاکھ روپے فی کس تک کی بھاری رشوت وصول کی گئی۔ ان اسامیوں میں اپنے عزیزوں کو بھی نوازا گیا
مختار احمد کی پی اے آر سی میں بطور کنسلٹنٹ غیر قانونی تقرری

پی اے آر سی کنسلٹنٹ مختار ڈپٹی سیکرٹری وزارت خوراک و زراعت سے ریٹائرڈ ہوئے جنہیں ریٹائرمنٹ کے بعد قواعد سے ہٹ کر پی اے آر سی میں 5لاکھ روپےماہانہ تنخواہ پر بطور کنسلٹنٹ تعینات کیا گیا ہے جبکہ سرکاری بھرتیوں کےقواعد کے تحت وزارت سے ریٹائرڈ ملازم کو کنسلٹنٹ نہیں رکھا جاسکتا ۔ ذرائع کے مطابق مختار پی اے آر سی میں بطور کنسلٹنٹ تعینات ہیں لیکن وہ وزارت میں ڈی جی ٹو وفاقی وزیر خدمات سرانجام دے رہے ہیں ۔
مختاریا گل ود گئی اے
پی اے آر سی میں تعینات کنسلٹنٹ مختار احمد ادارے میں کافی اثر رسوخ رکھتے ہیں اور برائے راست وفاقی وزیر راناتنویر حسین سے رابطے میں تھے غیر قانونی بھرتیوں میں میں مختار احمد کا نام سامنے آنے پر متعدداعلی حکام کے ملوث پائے جانے شکوک و شبہات پائے جارہے ہیں ۔وزیر اعظم کے سامنے پیشی کے موقع پر ۔چیئرمین پی اے آر سی نے بھی بھرتیوں کا تمام ملبہ مختار احمد پر ڈال دیا ہے
پی اے آر سی میں ہونے والی تمام بھرتیوں کو منسوخ کردیا یا
پی اے آر سی میں کروڑ روپے کی رشوت کے عوض ہونے والی تمام بھرتیوں کو منسوخ کردیا گیا ،اور دو افسران ڈائریکٹر اسٹیبلشمنٹ فخرزمان اور ڈپٹی ڈائریکٹر کمیونیکیشن فرقان ظفرکو پہلے ہی معطل کرکے انکے خلاف محکمانہ کاروائی شروع کردی گئی ہے۔ دونوں افسران کو دفتر میں موجود رہنے اور انکوائری میں باقاعدگی سے پیش ہونے کی بھی تاکید کی گئی ہے۔جبکہ ایف آئی اے کی تحقیقات کے بعد مزید کاروائی عمل میں لائی جائیگی۔
سابقہ چیئرمین پی اے آر سی ڈاکٹر غلام علی بھی غیر قانونی بھرتیوں میں ملوث رہے
وفاقی تحقیقاتی ایجنسی اینٹی کرپشن اسلام آباد نے پاکستان ایگریکلچرل ریسرچ کونسل کے چیئرمین ڈاکٹر غلام محمد علی کو غیر قانونی بھرتیوں اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے الزام میں گرفتار کیا تھا

ایف آئی اے کے مطابق ڈاکٹر غلام محمد علی پر الزام تھا کہ انہوں نے منظور شدہ 164 آسامیوں کے برعکس 332 افراد کو غیر قانونی طور پر بھرتی کیا۔اس کارروائی کے دوران پی اے آر سی کے ڈائریکٹر اسٹیبلشمنٹ اخلاق ملک کو بھی گرفتار کیا گیا۔،ملزمان پر بھرتیوں کے عوض مبینہ طور پر رشوت لینے اور اختیارات کا غلط استعمال کرنے کے الزامات بھی شامل ہیں۔