جنیوا میں امریکاایران معاہدہ پاکستانی ثالث کی موجودگی میں ہوگا
امریکا اور ایران کے درمیان جنیوا میں معاہدے کا امکان قوی تر ہوتا جارہا ہے۔ دفترخارجہ کے ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ معاہدہ طے پانے کی صورت میں یہ عمل اہم ترین ثالث یعنی پاکستان کی موجودگی میں انجام پائے گا۔
ذرائع نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر تصدیق کی کہ پاکستانی دفتر خارجہ کے سینئر ترین اہلکار اور لیگل ٹیم کو جنیوا بھیجنے کی تیاریاں شروع کردی گئی ہیں۔
ابھی یہ واضح نہیں کہ آیا پاکستان کی کوئی سیاسی شخصیت بھی اس اہم ترین موقع پر جنیوا میں موجود ہوگی یا نہیں۔امریکا کی جانب سے ایران پر مسلط کردہ جنگ کےبعد پاکستان نے پچھلے چند ماہ میں بطور ثالث اہم ترین کردار ادا کیا ہے اور جنگ بندی بھی ممکن بنائی تھی۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر بذات خود ایران کا دو بار اس سلسلے میں دورہ کرچکے ہیں جس میں انکی ایران کے صدر مسعود پزشکیان اور وزیر خارجہ عباس عراقچی سمیت اہم ترین شخصیات سے ملاقات ہوئی تھی۔
میڈیا اسلام آباد مفاہمتی یادداشت مواد کے بارے میں قیاس آرائی سے گریز کرے: عباس عراقچی

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر کبھی بھی اتنا قریبی اتفاق نہیں ہوا ہے، میڈیا کو اس کے مواد کے بارے میں قیاس آرائی سے گریز کرنا چاہیے۔
عباس عراقچی نے کہا کہ شفاف پالیسی کے مطابق تفصیلات مناسب وقت پر عوام کے ساتھ شیئر کی جائیں گی، اس مفاہمتی یادداشت کی حتمی منظوری باقی ہے۔
امریکہ ایران امن معاہدہ اتنا قریب نہ تھا جتنا آج ہے: وزیر اعظم
ملاقات یا ڈیل پر دستخط کرنے سے ایرانی منجمد فنڈ بحال نہیں ہوں گے: امریکی نائب صدر
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ صرف ملاقات یا ڈیل پر دستخط کرنے پر ایرانی منجمد فنڈ بحال نہیں ہوں گے، مجوزہ معاہدے کے تحت ایران کو ذمہ داریاں پوری کرنے پر معاشی فوائد حاصل ہوں گے۔
جے ڈی وینس نے کہا کہ مجوزہ معاہدے کے بارے میں بہت سی جعلی معلومات پھیلائی جارہی ہیں۔
