vni.global
Viral News International

گلگت بلتستان میں انتخابی دنگل:سیاسی جماعتوں کی مہم عروج پرپہنچ گئی

گلگت (خصوصی رپورٹ): گلگت بلتستان اسمبلی کے چوتھے عام انتخابات کے لیے سیاسی گہما گہمی عروج پر پہنچ گئی ہے۔ الیکشن کمیشن آف گلگت بلتستان کی جانب سے جاری کردہ حتمی شیڈول کے مطابق، خطے کے غیور عوام 7 جون 2026 کو اپنے حقِ رائے دہی کا استعمال کریں گے۔ شدید سردی اور خراب موسم کے باعث جنوری میں ملتوی ہونے والے یہ انتخابات اب گرمیوں کے سازگار موسم میں ہو رہے ہیں، جس کی وجہ سے ووٹرز اور سیاسی کارکنان میں غیر معمولی جوش و خروش دیکھا جا رہا ہے۔

انتخابی میدان کی بڑی قوتیں اور اہم اتحاد

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق اس بار گلگت بلتستان کا معرکہ سہ رخی اور انتہائی دلچسپ شکل اختیار کر چکا ہے۔ میدان میں بنیادی طور پر تین بڑی سیاسی قوتیں آمنے سامنے ہیں:

  1. پاکستان تحریک انصاف: سابقہ برسرِاقتدار جماعت ہونے کے ناطے پی ٹی آئی کا مقامی سطح پر تنظیمی نیٹ ورک کافی مضبوط ہے۔ پارٹی اپنی گزشتہ حکومت کے ترقیاتی کاموں اور بیانیے کی بنیاد پر دوبارہ اکثریت حاصل کرنے کے لیے پرعزم ہے۔

  2. پاکستان مسلم لیگ (ن) : وفاق میں حکومت ہونے کی وجہ سے ن لیگ کو روایتی طور پر گلگت بلتستان میں ایک مضبوط پوزیشن حاصل ہے۔ پارٹی قیادت کا دعویٰ ہے کہ خطے کی اصل ترقی ن لیگ کے دورِ حکومت میں ہوئی اور عوام ایک بار پھر ان پر اعتماد کریں گے۔

  3. پاکستان پیپلز پارٹی: پیپلز پارٹی کا گلگت بلتستان کی سیاست میں گہرا تاریخی اثر و رسوخ ہے۔ پارٹی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی جانب سے خطے پر خصوصی توجہ اور انتخابی متحرک پن کی وجہ سے پی پی پی بھی مضبوط ترین دعویدار بن کر ابھری ہے۔

قومپرست اور آزاد امیدواروں کا کردار: گلگت بلتستان کی سیاست کی یہ منفرد روایت رہی ہے کہ یہاں مقامی برادریوں (دھڑے بندیوں) اور آزاد امیدواروں کا بہت بڑا اثر ہوتا ہے۔ ماضی کی طرح اس بار بھی کئی حلقوں میں آزاد امیدوار بڑی سیاسی جماعتوں کے پینل کو ٹف ٹائم دے رہے ہیں۔

سیکیورٹی اور انتخابی شفافیت کے انتظامات

چیف الیکشن کمشنر راجہ شہباز خان کی نگرانی میں انتخابی عمل کو شفاف اور پرامن بنانے کے لیے فول پروف انتظامات کیے گئے ہیں۔

  • نادرا کا تعاون: الیکشن کمیشن نے ووٹر لسٹوں کی درستگی اور انتخابی شفافیت کے لیے نادرا کے ساتھ مل کر جدید ترین ڈیٹا سسٹم استعمال کیا ہے۔

  • سیکیورٹی کے سخت اقدامات: حساس اور انتہائی حساس قرار دیے گئے پولنگ اسٹیشنز پر پولیس کے ساتھ ساتھ نگران حکومت نے سیکیورٹی کے دیگر اداروں کی خدمات بھی طلب کر لی ہیں تاکہ امن و امان کی صورتحال برقرار رہے اور خواتین سمیت تمام ووٹرز بلا خوف و خطر ووٹ ڈال سکیں۔

سیاسی پنڈتوں کی پیش گوئیاں

سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ گلگت بلتستان کا ووٹر اب بہت باشعور ہو چکا ہے اور وہ مقامی مسائل، روزگار، گندم کی سبسڈی، اور خطے کی آئینی حیثیت جیسے امور کو مدنظر رکھ کر فیصلہ کرے گا۔ موجودہ لہر کو دیکھتے ہوئے کسی ایک پارٹی کی واضح اکثریت  کے امکانات کم دکھائی دیتے ہیں اور قوی امکان یہی ہے کہ انتخابات کے بعد یہاں ایک مخلوط حکومت  وجود میں آئے گی۔

اب تمام نظریں 7 جون کے تاریخی دن پر لگی ہیں، جب گلگت بلتستان کی عوام اگلے پانچ سال کے لیے اپنے مستقبل کا فیصلہ کریں گے۔

You might also like
Leave A Reply

Your email address will not be published.