vni.global
Viral News International

ٹیکس گوشوارے تاخیر سے جمع کرانے والے ہوجائیں ہوشیار

نئے مالی سال کے بجٹ میں ٹیکس گوشوارے تاخیر سے جمع کرانے پر بھاری جرمانوں کی تجویز

پاکستان کی وفاقی حکومت نے مالی سال 2026-27 کے فنانس بل میں ٹیکس قوانین پر عمل درآمد سخت کرنے کے لیے انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کے جرمانوں میں غیر معمولی اضافہ تجویز کر دیا ہے۔ وفاقی بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی جانب سے محصولات بڑھانے کی اس نئی حکمت عملی کے تحت بعض جرمانے دو گنا سے بھی زیادہ کر دیے گئے ہیں۔

فنانس بل کے تحت تجویز کردہ اہم تبدیلیاں درج ذیل ہیں:

ایکٹو ٹیکس پیئرز لسٹ  میں بحالی کی فیس

ایکٹو ٹیکس پیئرز لسٹ میں دوبارہ شامل ہونے کے لیے فیسوں میں بھاری اضافہ تجویز کیا گیا ہے:

  • کمپنیوں کے لیے: 20 ہزار روپے سے بڑھا کر 1 لاکھ روپے۔

  • ایسوسی ایشن آف پرسنز کے لیے: 10 ہزار سے بڑھا کر 50 ہزار روپے۔

  • انفرادی ٹیکس دہندگان کے لیے: 1 ہزار روپے سے بڑھا کر 25 ہزار روپے۔


آڈٹ ریکارڈ اور معلومات کی عدم فراہمی پر جرمانے

ٹیکس آڈٹ کے دوران دستاویزات فراہم نہ کرنے اور غلط بیانی پر سخت سزائیں مقرر کی جا رہی ہیں:

ریکارڈ نہ دینے پر: 25 ہزار، 50 ہزار اور 1 لاکھ روپے کے موجودہ جرمانوں کو بڑھا کر بالترتیب 1 لاکھ، 2 لاکھ اور 3 لاکھ روپے کرنے کی تجویز ہے۔

غلط یا گمراہ کن معلومات پر: جرمانہ 25 ہزار روپے سے بڑھا کر 5 لاکھ روپے (یا ٹیکس کی کمی کا 100 فیصد) تجویز کیا گیا ہے۔

آمدنی چھپانے پر: جرمانہ 1 لاکھ روپے سے بڑھا کر 10 لاکھ روپے کرنے کی تجویز ہے۔


ودہولڈنگ ٹیکس کی خلاف ورزیاں

ودہولڈنگ ٹیکس نہ کاٹنے یا جمع نہ کرانے پر جرمانہ 40 ہزار سے بڑھا کر 5 لاکھ روپے کیا جا رہا ہے۔

کمپنیوں کی صورت میں، خلاف ورزی پر کمپنی کے ذمہ دار افسران کو ذاتی حیثیت میں بھی 5 لاکھ روپے تک اضافی جرمانہ ہو سکے گا۔

ودہولڈنگ ٹیکس کریڈٹس کے غلط استعمال پر ناجائز حاصل کردہ کریڈٹ کے برابر جرمانہ عائد ہوگا۔


سیلز ٹیکس ریٹرن میں تاخیر

سیلز ٹیکس ریٹرن دیر سے جمع کرانے کا مقررہ جرمانہ 10 ہزار سے بڑھا کر 50 ہزار روپے تجویز کیا گیا ہے۔

مقررہ تاریخ کے بعد ابتدائی 10 دنوں کے اندر ریٹرن جمع کرانے کی صورت میں یومیہ جرمانہ 200 روپے سے بڑھا کر 2 ہزار روپے کرنے کی تجویز ہے۔

دیگر عام خلاف ورزیوں پر مقررہ یومیہ جرمانہ 500 روپے سے بڑھا کر 5 ہزار روپے کیا جا رہا ہے۔اہم نوٹ: مسلسل دو ماہ تک ٹیکس قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف موجودہ قانون کے تحت 10 لاکھ روپے تک جرمانہ اور کاروباری مراکز سیل کرنے کی دفعات برقرار ہیں، جبکہ نئے فنانس بل میں ایسے عناصر کے خلاف مزید سخت کارروائیوں کی راہ ہموار کی گئی ہے۔

حکومت کا موقف ہے کہ ان اقدامات کا مقصد ٹیکس چوری کا تدارک اور فائلرز کی تعداد میں اضافہ کرنا ہے، تاہم معاشی ماہرین کا خدشہ ہے کہ اس سے چھوٹے ٹیکس دہندگان پر مالی بوجھ مزید بڑھے گا۔

You might also like
Leave A Reply

Your email address will not be published.