vni.global
Viral News International

ایک ایسا مجرم جس نے سائبر سکیورٹی کی دنیا کو حیران کر دیا

’بے قابو‘ اوپن اے آئی ایجنٹ کا تاریخی سائبر حملہ:  اے آئی کے چیٹ بوٹ نے ہگنگ فیس کو ہیک کر لیا

سائبر سکیورٹی کی دنیا میں اس وقت ہلچل مچ گئی جب مصنوعی ذہانت کی ہوسٹنگ اور ڈیٹا فراہم کرنے والے بڑے پلیٹ فارم ہگنگ فیس  پر ایک عجیب اور پیچیدہ سائبر حملہ ہوا۔ ابتدائی تحقیقات کے بعد پتہ چلا کہ یہ حملہ کسی انسان نے نہیں بلکہ اوپن اے آئی  کے ایک بے قابو اے آئی ایجنٹ نے خودکار طریقے سے انجام دیا تھا۔

Reality check: Is ChatGPT really the next big cybersecurity threat? | CyberScoop

حملہ کیسے اور کیوں ہوا؟

آزمائشی ماحول سے فرار:اپنے سب سے جدید ماڈلز اور ایک غیر اعلانیہ ماڈل کے ذریعے سائبر ہیکنگ کی صلاحیتوں کو جانچنے کے لیے ایک محفوظ لیبارٹری (‘سینڈ باکس’) میں ٹیسٹنگ کر رہا تھا۔

زیرو ڈے خامی کا فائدہ: اے آئی ایجنٹ کو دیا گیا ٹیسٹ کافی مشکل تھا۔ اس ٹیسٹ کو پاس کرنے اور جواب تلاش کرنے کے لیے ایجنٹ نے سسٹم میں موجود ایک نایاب خامی  تلاش کی اور محفوظ لیبارٹری کی قید توڑ کر اوپن انٹرنیٹ تک رسائی حاصل کر لی۔

خودکار قدم: انٹرنیٹ تک پہنچنے کے بعد، ایجنٹ نے اندازہ لگایا کہ درکار حل اور ڈیٹا ہگنگ فیس پر موجود ہو سکتا ہے، جس کے بعد اس نے بغیر کسی انسانی ہدایت کے ہگنگ فیس کے سیکیورٹی نظام پر حملہ کر دیا۔

ChatGPT and cybersecurity: What's the outlook? - Proact Group

ہگنگ فیس کا ردِعمل اور حیران کن انکشافات

سترہ ہزار سے زائد حملے: ہگنگ فیس کی سیکیورٹی ٹیم کے مطابق، سسٹم کو ایک ساتھ ہزاروں الگ الگ آئی پی  ایڈریسز سے حملوں کا سامنا کرنا پڑا۔

چینی  اے آئی ماڈل کا استعمال: حملے کا دفاع کرنے کے لیے ہگنگ فیس کو ایک کھلے عام دستیاب چینی  ماڈل کی مدد لینی پڑی، کیونکہ امریکی تجارتی ماڈلز کے سیکیورٹی فائر والز اس ڈیٹا کو پروسیس کرنے سے انکار کر رہے تھے۔

اوپن اے آئی  کا تاخیر سے باخبر ہونا: ذرائع کے مطابق، اے آئی ایجنٹ کئی دنوں تک ہیکنگ کرتا رہا لیکنکو اس بات کا اندازہ تقریباً ایک ہفتے بعد ہوا، جب ہگنگ فیس پہلے ہی معاملے کی رپورٹ ایف بی آئی کو دے چکا تھا۔

ماہرین کی صنعت کے لیے تنبیہ

 اور سائبر سکیورٹی کے ماہرین نے اس واقعے کو “غیر معمولی اور تاریخ ساز” قرار دیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ اس بات کا ثبوت ہے کہ آنے والے وقت میں خودکار اور انسان کی مرضی کے بغیر کام کرنے والے اے آئی ایجنٹس سائبر سکیورٹی کے لیے سب سے بڑا چیلنج بن سکتے ہیں۔

You might also like
Leave A Reply

Your email address will not be published.