فراڈ کا شکار نابینا خاتون کو انصاف مل گیا
اسلام آباد ہائیکورٹ نے ایک بڑا اور مثالی فیصلہ سناتے ہوئے مالی فراڈ کا شکار بننے والی بصارت سے محروم خاتون، درخشاں مرزا کو ان کی لٹی ہوئی رقم میں سے 1 کروڑ 92 لاکھ روپے واپس دلوا دیے ہیں۔ اس کیس میں جرم ثابت ہونے پر سابق بینک مینیجر رمیز جاوید پہلے ہی پانچ سال قید کی سزا کاٹ رہا ہے، جس پر خاتون کے دو کروڑ روپے سے زائد ہڑپ کرنے کا الزام تھا۔
عدالتِ عالیہ کے ڈویژن بینچ نے متاثرہ خاتون کی جانب سے دائر متفرق درخواست پر سماعت کرتے ہوئے نہ صرف اب تک کی خطیر رقم کی واپسی کو یقینی بنایا بلکہ مینیجر کی جانب سے ہڑپ کی گئی باقی رقم کے ازالے کے لیے اس کی دونوں گاڑیاں بھی بحقِ متاثرہ خاتون بحالی کا حکم دے دیا ہے۔ عدالت نے وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) کو ایک ہفتے کے اندر گاڑیاں ریکور کر کے تفصیلی رپورٹ جمع کرانے کی ہدایت کی ہے۔ اس موقع پر عدالت سے انصاف ملنے اور لٹی ہوئی رقم واپس لوٹنے پر بصارت سے محروم خاتون نے ججز صاحبان کا دل سے شکریہ ادا کیا۔