شدید ہیٹ ویو کا رخ مشرقی یورپ کی طرف؛ متعدد ممالک میں ریڈ الرٹ
برطانوی ایئرپورٹس پر سینکڑوں پروازیں تاخیر کا شکار
یورپ میں ریکارڈ توڑ گرمی کی لہر (ہیٹ ویو) بدستور تباہی مچا رہی ہے، اور ماہرینِ موسمیات کے مطابق اب یہ شدید ترین موسمی نظام مغربی یورپ سے وسطی اور مشرقی یورپ کے ممالک کی طرف منتقل ہو رہا ہے۔ گرمی کی اس غیر معمولی شدت کے باعث فرانس، جرمنی، سوئٹزرلینڈ، آسٹریا اور ہنگری سمیت متعدد ممالک میں ہائی الرٹ اور ریڈ وارننگز جاری کر دی گئی ہیں۔
مختلف ممالک سے موصول ہونے والی تازہ ترین صورتحال درج ذیل ہے:
برطانیہ میں فضائی نظام درہم برہم: برطانیہ میں شدید ہیٹ ویو کے بعد بننے والے طوفانی موسم اور گرج چمک کے باعث لندن کے ہیتھرو اور گیٹوک ہوائی اڈوں پر 700 سے زائد پروازیں تاخیر کا شکار یا منسوخ ہو گئیں۔ اس کے علاوہ، برطانیہ میں لگاتار تیسرے دن جون کا گرم ترین ریکارڈ ٹوٹا جہاں درجہ حرارت 37.3 سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔

ڈنمارک اور سلوواکیہ میں نئے ریکارڈ: ڈنمارک میں 36.6سینٹی گریڈ درجہ حرارت کے ساتھ 150 سالہ تاریخ کا گرم ترین دن ریکارڈ کیا گیا، جبکہ سلوواکیہ کی راجدھانی براٹیسلاوا میں رات کا درجہ حرارت بھی 26.3سینٹی گریڈسے نیچے نہیں گرا، جو کہ ایک نیا ریکارڈ ہے۔
جرمنی اور نیدرلینڈز میں شدید ترین گرمی: جرمنی میں درجہ حرارت 41.3سینٹی گریڈ تک جا پہنچا ہے اور ملک کی تمام 16 ریاستوں میں گرمی کی ہنگامی وارننگ نافذ ہے۔ نیدرلینڈز میں بھی درجہ حرارت 40 سینٹی گریڈ تک پہنچنے پر ریڈ الرٹ جاری کیا گیا ہے
اٹلی میں قحط کا خطرہ: اٹلی کا سب سے طویل دریا ‘پو’ گرمی کے باعث تیزی سے خشک ہو رہا ہے۔ دریا میں پانی کا بہاؤ معمول کے 1500 کیوبک میٹر سے کم ہو کر 300 کیوبک میٹر فی سیکنڈ سے بھی نیچے گر گیا ہے، جس کی وجہ سے سمندر کا نمکین پانی دریا میں داخل ہو رہا ہے۔ کسانوں کو خدشہ ہے کہ اگر یہی صورتحال رہی تو اگلے تین ہفتوں میں پانی کے ذخائر مکمل ختم ہو جائیں گے، جس سے فصلوں کو شدید نقصان پہنچے گا۔

فرانس میں ہلاکتیں اور تقریبات کی منسوخی: فرانس میں شدید گرمی سے بچنے کے لیے پانی میں اترنے والے درجنوں افراد ڈوب کر ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ پیرس میں ہنگامی خدمات پر دباؤ کم کرنے کے لیے سالانہ ‘پرائیڈ مارچ’ کو ملتوی کر دیا گیا ہے۔
مستقبل کی پیشگوئی:
موسمیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ شدید ترین لہر اب پولینڈ، رومانیہ، مالدووا اور بلقان کے خطے کی طرف بڑھ رہی ہے جہاں اگلے چند دنوں میں درجہ حرارت 39 سے 42 سینٹی گریڈ تک جا سکتا ہے۔ سائنسدانوں کے مطابق یورپ دنیا کا سب سے تیزی سے گرم ہونے والا براعظم ہے اور یہ موجودہ صورتحال موسمیاتی تبدیلی کا براہِ راست نتیجہ ہے۔