vni.global
Viral News International

ایران امریکہ امن معاہدہ، ڈیل اور دھمکیاں ساتھ ساتھ

جنیوا/ اسلام آباد: امریکہ اور ایران کے درمیان تقریباً چار ماہ سے جاری شدید فوجی تنازع اور بحری ناکہ بندی کے بعد بالآخر ایک تاریخی فریم ورک امن معاہدہ طے پا گیا ہے۔ پاکستان کی کامیاب ثالثی کے نتیجے میں دونوں ممالک نے تمام محاذوں (بشمول لبنان) پر فوری اور مستقل جنگ بندی کا اعلان کر دیا ہے، جس سے مشرقِ وسطیٰ اور عالمی معیشت میں پھیلی شدید کشیدگی کم ہونے کی امید پیدا ہو گئی ہے۔

پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سمیت ایرانی حکام نے اس اہم پیش رفت کی تصدیق کی ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان مفاہمت کی یادداشت  پر باقاعدہ دستخط کی تقریب 19 جون کو سوئٹزرلینڈ کے علاقے برجن اسٹاک میں منعقد ہوگی۔

اگر ایران کے ساتھ متوقع معاہدہ پسند نہ آیا تو ہم دوبارہ بمباری شروع کردیں گے،  ٹرمپ

اگر ایران کے ساتھ متوقع معاہدہ پسند نہ آیا تو ہم دوبارہ بمباری شروع کردیں گے، ڈونلڈ ٹرمپ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران کے ساتھ یادداشتِ مفاہمت ابھی حتمی نہیں، اگر مجھے یہ معاہدہ پسند نہ آیا تو ہم دوبارہ بمباری شروع کر دیں گے۔

مصری صدر عبدالفتح السیسی سے ملاقات بعد میڈیا سے گفتگو میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران کی ناکہ بندی بہت کامیاب ثابت ہوئی، ایران کی نیوی ،فضائیہ اور فوج ختم کردی ، ایران کا دفاعی نظام،میزائل اور ریڈار سسٹم بھی تباہ کردیا۔

امریکی صدر نے کہا کہ ایران کے ساتھ بہت پائیدار معاہدہ ہوا، ایران کے ساتھ معاہدے کے بعد آبنائے ہرمز مکمل طور پر کھل جائے گی، ایران کے ساتھ ڈیل کے بعد تیل کی قیمتوں مزید کم ہوجائیں گی۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ایران کے ساتھ ڈیل سے متعلق آج اہم پریس کانفرنس کروں گا، امریکا ایران میں کوئی سرمایہ کاری نہیں کرے گا، ایران کسی صورت جوہری ہتھیار نہیں رکھ سکتا، ایران کے ساتھ یادداشتِ مفاہمت ابھی حتمی نہیں۔ اگر ایران کے ساتھ متوقع معاہدہ پسند نہ آیا تو ہم دوبارہ بمباری شروع کردیں گے۔

ایران نے امریکہ کو اپنی شرائط پر مذاکرات کی ٹیبل پر آنے پر مجبور کیا، ابراہیم عزیزی

ایران نے امریکہ کو اپنی شرائط پر مذاکرات کی ٹیبل پر آنے پر مجبور کیا، ابراہیم عزیزی

 ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی کمیٹی کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے کہا ہے کہ ایران نے امریکہ کو اپنی شرائط پر مذاکرات کی ٹیبل پر آنے پر مجبور کیا۔

عوامی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے ایک بیان میں ابراہیم عزیزی نے کہا کہ ایران کے خلاف یکطرفہ فیصلے مسلط کرنے کا دور ختم ہو چکا ہے۔

انہوں نے کہا کہ امریکہ کو لبنان کے خلاف جنگ کے خاتمے کا وعدہ اور مفاہمتی یادداشت کے تمام نکات پر عملدرآمد یقینی بنانا ہوگا، کسی بھی خلاف ورزی کا سخت اور منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔

اسرائیل جنوبی لبنان پر حملوں سے باز نہ آیا تو فیصلہ کن جواب دیں گے: ایرانی فوج

اسرائیل جنوبی لبنان پر حملوں سے باز نہ آیا تو فیصلہ کن جواب دیں گے: ایرانی فوج

ایرانی فوجی ترجمان کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ 2 روز کے دوران اسرائیلی افواج نے مبینہ طور پر جنوبی لبنان میں جنگ بندی کی 84 بار خلاف ورزی کی ہے اور عام شہریوں کو شہید کیا گیا جو خطے میں کشیدگی میں اضافے کا باعث بن رہی ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جنگ بندی یا کشیدگی میں کمی کے دعوؤں کے باوجود زمینی صورتحال میں کوئی بہتری نہیں آئی اور اسرائیلی کارروائیاں بدستور جاری ہیں۔

خاتم الانبیاء ہیڈکوارٹر نے واضح کیا کہ اگر صورتحال یہی رہی اور اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان میں اپنی کارروائیاں نہ روکی تو ایران کی مسلح افواج مناسب اور سخت جواب دینے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔

بیان میں کیا گیا کہ خطے میں کسی بھی جارحیت کا مقابلہ کیا جائے گا اور یکطرفہ کارروائیوں کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔

You might also like
Leave A Reply

Your email address will not be published.