حملے عارضی طور پر روکے،مذاکرات ناکام ہوئے تو فوجی کارروائی ہوگی: ٹرمپ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ایران کے خلاف ممکنہ امریکی فوجی حملے عارضی طور پر روک دیے گئے ہیں، تاہم اگر جاری سفارتی مذاکرات ناکام ہوئے تو سخت فوجی کارروائی کی جائے گی۔
امریکی جریدے ’ایگزیوس‘ کو دیے گئے انٹرویو میں صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اس وقت آبنائے ہرمز کی صورتحال اور جوہری معاہدے پر پیشرفت سے متعلق اہم مذاکرات جاری ہیں، جن میں ایران کے علاوہ عمان، قطر، پاکستان اور مصر بھی اہم سفارتی کردار ادا کر رہے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ ثالث ممالک کی اپیل پر فی الحال حملے مؤخر کیے گئے ہیں، جس کے مثبت اثرات عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی اور امریکی اسٹاک مارکیٹ میں تیزی کی صورت میں سامنے آئے ہیں۔
صدر ٹرمپ نے یہ تاثر بھی ظاہر کیا کہ ایران معاہدہ کرنے کا خواہمند لگتا ہے، تاہم یہ معاہدہ یا تو بہت جلد طے پا جائے گا یا پھر بالکل نہیں ہوگا۔ اس کے علاوہ امریکی صدر اور اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے درمیان وائٹ ہاؤس میں ایک اہم ملاقات متوقع ہے جس میں ایران، غزہ اور مشرقِ وسطیٰ کی مجموعی صورتحال پر تفصیلی گفتگو کی جائے گی۔