لاہور: مدرسے کے قاری کے مبینہ تشدد سے بچہ جاں بحق
لاہور (ویب ڈیسک): صوبائی دارالحکومت لاہور کے علاقے برکی میں ایک دلخراش واقعہ پیش آیا ہے، جہاں ایک مدرسے کے قاری کے مبینہ تشدد کے نتیجے میں 12 سالہ معصوم بچہ جاں بحق ہو گیا ہے۔ جاں بحق ہونے والے بچے کی شناخت علی حیدر کے نام سے ہوئی ہے جو بہاولنگر کا رہائشی تھا اور لاہور کے ایک مدرسے میں زیرِ تعلیم تھا۔
اہلخانہ نے الزام عائد کیا ہے کہ قاری غلام رسول نے معصوم علی حیدر کو ‘ختم شریف’ کی محفل میں وقت پر نہ پہنچنے کی پاداش میں شدید تشدد کا نشانہ بنایا، جس کے باعث بچے کے ہاتھ اور ٹانگیں ٹوٹ گئیں اور وہ شدید زخمی ہو گیا۔ لواحقین کا مزید کہنا ہے کہ جب تشدد کی وجہ سے بچے کی حالت انتہائی تشویشناک ہو گئی اور وہ قریب المرگ پہنچ گیا، تو قاری نے اسے ایک بس میں لٹا کر والد کو اطلاع دے دی۔ علی حیدر تقریباً 8 روز تک ہسپتال میں زندگی اور موت کی کشمکش میں رہنے کے بعد بالآخر دم توڑ گیا۔
واقعے کے بعد بچے کے والد نے تھانہ برکی میں اندراجِ مقدمہ کے لیے درخواست جمع کروائی، جس پر کارروائی کرتے ہوئے پولیس نے بچے کے چچا کی مدعیت میں قاری غلام رسول کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے۔ پولیس نے بچے کی لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے ہسپتال منتقل کر کے واقعے کی باقاعدہ قانونی تفتیش کا آغاز کر دیا ہے۔