وزیرداخلہ محسن نقوی کا دورہ تہران، اعلی ایرانی قیادت سے ملاقاتیں
امریکہ اور ایران کے درمیان فروری سے جاری شدید کشیدگی اور جنگ بندی کے جمود کو توڑنے کے لیے پاکستان نے ایک بار پھر اعلیٰ ترین سطح پر فعال سفارت کاری کا آغاز کر دیا ہے۔ اس سلسلے میں پاکستان کے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی ایک اعلیٰ سطحی وفد کے ہمراہ ہفتہ 6 جون 2026 کو ایران کے دارالحکومت تہران پہنچ گئے، جہاں ایرانی وزیر داخلہ سکندر مومنی اور ایران کے لیے پاکستان کے سفیر عمران صدیقی نے ان کا پرجوش استقبال کیا۔ حالیہ چند ہفتوں کے دوران محسن نقوی کا یہ تیسرا دورہِ ایران ہے، جو مشرقِ وسطیٰ میں امن کے قیام کے لیے پاکستان کی پسِ پردہ کوششوں کی حساسیت اور اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔
۔ فیلڈ مارشل کا ایرانی سپریم لیڈر کے نام خصوصی پیغام
سفارتی ذرائع کے مطابق وزیر داخلہ محسن نقوی اس دورے میں ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای کے نام پاکستانی عسکری قیادت (فیلڈ مارشل سید عاصم منیر) کا ایک انتہائی اہم اور خصوصی پیغام لے کر گئے ہیں۔ فیلڈ مارشل کے اس پیغام کا مرکزی محور مشرقِ وسطیٰ اور پاک-ایران سرحد پر پائیدار امن کا قیام، جنگی صورتحال کا خاتمہ اور خطے کو کسی بھی بڑے المیے سے محفوظ رکھنا ہے۔ تہران روانگی سے قبل وزیر داخلہ نے وزیراعظم محمد شہباز شریف سے بھی ایک طویل ملاقات کی تھی، جس میں وزیراعظم نے انہیں ایران اور امریکہ کے مابین جاری امن مذاکرات اور متوقع مفاہمتی یادداشت کے حوالے سے خصوصی گائیڈ لائنز اور ہدایات فراہم کیں، جبکہ محسن نقوی نے وزیراعظم کو شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس کے موقع پر کرغزستان میں ہونے والی اپنی حالیہ ملاقاتوں سے بھی آگاہ کیا۔
وزیر داخلہ نے ایرانی قیادت کو امریکہ کی نئی تجاویز پہنچائی ہیں ، عالمی میڈیا
بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کے مطابق، پاکستان اس بار واشنگٹن کی طرف سے ملنے والی کچھ “نئی تجاویز” کے ساتھ تہران پہنچا ہے تاکہ دونوں حریف ممالک کو ایک عارضی یا مستقل مفاہمتی یادداشت پر آمادہ کیا جا سکے۔ تہران میں وزیر داخلہ نقوی نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور دیگر اعلیٰ حکام سے تفصیلی ملاقاتیں کی ہیں، جن میں امریکہ کی طرف سے ایران کے منجمد فنڈز کی بحالی اور اس کے طریقہ کار پر بات چیت کی گئی۔ عالمی مبصرین کا کہنا ہے کہ چونکہ پاکستان کے واشنگٹن اور تہران دونوں کی مقتدر قیادت کے ساتھ یکساں اور مضبوط روابط ہیں، اس لیے محسن نقوی کا یہ دورہِ تہران دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کے جمود کو توڑنے اور خطے میں کسی بڑے بریک تھرو کا سبب بن سکتا ہے۔