ایران امریکہ امن معاہدہ،دستخط آج ہونگے یا نہیں، متضاد دعوے
امریکا اور ایران کے درمیان جنگ کے خاتمے سے متعلق معاہدے پر دستخط سے متعلق دونوں جانب سے متضاد بیانات سامنے آئے ہیں۔
ایک طرف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آج اتوار کےدن معاہدے پردستخط ہونے کاکہنا ہے جبکہ ایرانی فوج نے امریکی صدر ٹرمپ کا آج ڈیل پر دستخط ہونے کا دعویٰ مسترد کرتےہوئے کہاکہ ایرانی مذاکرات کار اتوار کو کسی معاہدے پر دستخظ نہ کرنے کا بتا چکے ہیں۔
ایرانی حکام کے مطابق صدر ٹرمپ معاہدے پر دستخط کی تقریب اپنی سالگرہ کی وجہ سے 14 جون کو کرنا چاہتے ہیں، ٹرمپ اس موقع کو علامتی اہمیت دے کر اپنی ذاتی تشہیر کا پروگرام بنا رہے ہیں۔
واضح رہے اس سے پہلے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ ایران کے ساتھ امن معاہدے پر دستخط آج ہوں گے، معاہدے پر دستخط ہوتے ہی آبنائے ہرمز سب کے لیے کھُل جائے گی۔
امریکہ ایران ڈیل میں منجمد اثاثے اور پابندیوں میں نرمی اہم مسئلہ بن گئے

ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ یہ تاثر نہیں دینا چاہتے کہ وہ براہ راست ایران کو مالی وسائل فراہم کر رہے ہیں، اسی وجہ سے ایران کے منجمد اثاثوں کی بحالی اور اقتصادی پابندیوں میں نرمی حساس نکات بن گئے ہیں۔
امریکہ نے طویل عرصے سے اقتصادی پابندیوں اور ایرانی اثاثوں تک رسائی کو دباؤ کے طور پر استعمال کیا تاکہ ایران کی معاشی ترقی کو محدود رکھا جا سکے یا مشرق وسطیٰ میں مسلح گروہوں کی حمایت کو روکا جا سکے۔
ماہرین کا ماننا ہے کہ ہوسکتا ہے منجمد اثاثوں کی واپسی کا فائدہ فوری طور پر عام ایرانی شہریوں تک مکمل طور پر نہ پہنچے لیکن برسوں سے پابندیوں کا سامنا کرنے والی ایرانی معیشت پر اس کے مثبت اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، اسی وجہ سے امریکہ ایران کو ان اثاثوں تک رسائی دینے میں محتاط ہے۔
اندازے کے مطابق بیرون ملک منجمد ایرانی فنڈز کی مالیت 100 سے 120 ارب امریکی ڈالر کے درمیان ہو سکتی ہے، ایران چاہتا ہے کہ پابندیوں میں نرمی اور منجمد اثاثوں کی واپسی معاہدے کا بنیادی حصہ ہو جبکہ امریکہ اس معاملے پر سخت شرائط اور نگرانی کا خواہاں ہے۔