مذاکرات کے دوران ٹرمپ کی دھمکیاں؛ ایرانی وفد کا دوسرے مرحلے میں شرکت سے انکار
سوئٹزرلینڈ میں امریکا اور ایران کے درمیان جاری اہم مذاکرات اس وقت تعطل کا شکار ہو گئے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے تازہ دھمکیوں کے بعد ایرانی وفد نے احتجاجاً دوسرے مرحلے میں شرکت کرنے سے انکار کر دیا۔
مذاکرات کا پہلا دور اور اہم نکات
سفارتی ذرائع کے مطابق، پاکستان کی ثالثی کے تحت امریکا اور ایران کی اعلیٰ سطحی کمیٹیوں کے درمیان پہلے مرحلے میں 45 منٹ تک تفصیلی اور کھل کر گفتگو ہوئی۔ پہلے راؤنڈ میں درج ذیل اہم ترین معاملات پر تبادلۂ خیال کیا گیا
ٹرمپ کی ایران کو دوبارہ حملے شروع کرنےکی دھمکی

:
امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو حملے دوبارہ شروع کرنے کی دھمکی دے دی ہے جبکہ نائب صدر جے ڈی وینس سوئٹزرلینڈ میں ایرانی وفد سے براہ راست مذاکرات کر رہے ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹرتھ سوشل میں جاری بیان میں کہا کہ ‘ایران فوی طور پر لبنان میں اپنے بھاری معاوضوں والی پراکسیز کو کشیدگی پھیلانے سے روکے’۔
انہوں نے کہا کہ اگر وہ ایسا نہیں کریں تو ہم ایران کو دوبارہ ایسے نشانہ بنائیں گے جیسے ہم نے گزشتہ ہفتے کیا تھا بلکہ اس سے زیادہ شدت سے کریں گے۔
ہم ٹرمپ کی دھمکیوں کو کوئی اہمیت نہیں دیتے، باقر قالیباف

ایران کی مذاکراتی ٹیم کے سربراہ باقر قالیباف نے ٹرمپ کی دھمکیوں کے جواب میں کہا ہے کہ ٹرمپ یہ نہیں سوچتے اگر ان کی دھمکیوں کا کوئی اثرہوتا تو وہ آج اس مایوسی کی حالت تک نہ پہنچتے۔
انہوں نے کہا کہ ہم امریکی دھمکیوں کو کوئی اہمیت نہیں دیتے، بہتر ہے ٹرمپ اپنے بیانات میں احتیاط برتیں، ہماری مسلح افواج مختلف انداز میں جواب دینے کے لیے تیار ہیں۔