قومی اقتصادی کونسل نے نئےمالی سال کے ترقیاتی بجٹ کی منظوری دیدی
وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت قومی اقتصادی کونسل کا اجلاس ہوا،کونسل نے اہم معاشی اہداف کی منظوری دے دی، وزیراعظم شہباز شریف نے قومی اقتصادی کونسل کے اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئےکہا کہ بجٹ کے حوالے سے صوبوں کے ساتھ کئی ہفتوں سے مشاورت جاری ہے، صوبوں کےساتھ مزید و سائل پیدا کرنےکے حوالے سے مشاورت ہوئی، زیادہ سے زیادہ وسائل پیدا کرنا ہماری ترجیح ہے،
دفاع کےلیے وسائل کی فراہمی ہماری ترجیح ہے، وزیراعظم
وزیر اعظم نے کہا دہشتگردی کے چیلنج سے نمٹنے کےلیے وسائل درکار ہیں، دفاع کےلیے وسائل کی فراہمی ہماری ترجیح ہے۔ْملکی معیشت کو بڑے چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا، ٹیم ورک کے طور پر پاکستان کے بہترین مفاد میں فیصلے کیے، خطے کی صورتحال کی وجہ سے تیل کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگی ہیں، صوبوں نے اس حوالے سے بھرپور تعاون کیا، آج میکرو سطح پر ملکی معیشت مستحکم ہے۔
.jpg)
مشکلات کے باوجودکوشش کی کہ آئی ایم ایف پروگرام پر عمل پیرا رہیں،وزیراعظم
وزیراعظم نے روزگار کے مواقع، برآمدات، معاشی بہتری، پیداواری صلاحیت بڑھانا سب کی مشترکہ ذمہ داری قرار دیا اور کہا کہ مشکلات کے باوجودکوشش کی کہ آئی ایم ایف پروگرام پر عمل پیرا رہیں۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ تیل کی قیمتوں کی مد میں عوام کو 128 ارب روپے کا ریلیف فراہم کیا، دنیا کے کئی ممالک میں پیٹرول پمپوں پر لائنیں دیکھنے میں آئیں، بروقت اقدامات کی وجہ سے پاکستان میں عوام کوپیٹرول دستیاب رہا، ہم نے عوام کی توقعات پر پورا اترنےکی کوشش کی، یہ سب ٹیم ورک کے نتیجے میں ممکن ہوا۔
آئندہ مالی سال کےلیے پی ایس ڈی پی کا حجم 1000 ارب روپے رکھا گیا
وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نےکہا قومی اقتصادی کونسل نے پی ایس ڈی پی کی منطوری دے دی، آئندہ مالی سال کےلیے پی ایس ڈی پی کا حجم 1000 ارب روپے رکھا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق رواں مالی سال کا قومی اقتصادی سروے کل دن 2 بجےکے بعد جاری کیا جائے گا، 2025-26 کے دوران حکومتی معاشی کارکردگی کا اسکور کارڈ جاری ہو گا۔