vni.global
Viral News International

اسرائیلی فوج کیجانب سے غزہ میں بچوں کو دانستہ نشانہ بنایا گیا، یو این رپورٹ

اقوام متحدہ کی ہلا دینے والی رپورٹ: غزہ میں اسرائیلی فوج کی جانب سے بچوں کو دانستہ نشانہ بنانے کے سنگین انکشافات، عالمی سطح پر شدید ردعمل

اقوام متحدہ کے آزاد بین الاقوامی تحقیقاتی کمیشن کی جانب سے جاری کردہ ایک نئی اور انتہائی چشم کشا رپورٹ نے غزہ میں بچوں کے خلاف ہونے والے مظالم پر پوری دنیا کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ رپورٹ میں فراہم کردہ دستاویزات اور متعدد ٹھوس شواہد اس بھیانک حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ غزہ میں فلسطینی بچوں کو دانستہ اور منصوبہ بندی کے تحت نشانہ بنایا گیا ہے، جو کہ صریحاً جنگی جرائم اور ممکنہ طور پر نسل کشی کے زمرے میں آتا ہے۔ اس رپورٹ میں دل دہلا دینے والے واقعات کا ذکر کرتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ کس طرح ایک واقعے میں صرف 10 دن کے نومولود بچے کو اس وقت گولی مار دی گئی جب وہ اپنی ماں کی گود میں دودھ پی رہا تھا، جبکہ ایک اور واقعے میں خیمے کے اندر موجود ایک چار سالہ معصوم بچی سر میں گولی لگنے کے باعث مستقل طور پر معذوری کا شکار ہو گئی۔

تحقیقاتی کمیشن نے اپنی رپورٹ میں اس بات کا بھی انکشاف کیا ہے کہ اسرائیلی کواڈ کاپٹر ڈرونز کو شہریوں کو انتہائی درست نشانے کے ساتھ ہدف بنانے کے لیے باقاعدہ استعمال کیا گیا۔ عینی شاہدین کے بیانات کے مطابق یہ مہلک ڈرون گلیوں اور پناہ گزین کیمپوں کے اوپر مسلسل منڈلاتے رہتے تھے اور کسی مشینی شکاری کی طرح ہر اس شخص پر اندھا دھند فائرنگ کر دیتے تھے جو انہیں حرکت کرتا ہوا دکھائی دیتا تھا۔ اقوام متحدہ کی اس سنگین رپورٹ پر عالمی سطح پر شدید ردعمل سامنے آیا ہے؛ ایرانی تجزیہ کار سید محمد مرندی نے اس پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ جو لوگ اب تک نسل کشی کی بات کو مسترد کرتے آرہے تھے، انہیں اب اس رپورٹ کا جواب دینا ہوگا۔ دوسری جانب، سابق پاکستانی وزیر خارجہ حنا ربانی کھر نے بھی اسے اقوام متحدہ کی سب سے زیادہ ہولناک اور سنگین ترین رپورٹس میں سے ایک قرار دیا ہے۔

اس حس

You might also like
Leave A Reply

Your email address will not be published.