بھارت کے امتحانی نطام میں بےضابطگیاں،کاکروچ جنتا پارٹی کی تحریک میمز سے سڑکوں تک پہنچ گئی
نئی دہلی: سوشل میڈیا کے طنز و مزاح سے جنم لینے والی نوجوانوں کی ایک منفرد تحریک اب بھارت کے دارالحکومت کی سڑکوں پر ایک باقاعدہ احتجاجی مہم کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ بوستن یونیورسٹی کے گریجویٹ ابھیجیت دیپکے کی قیادت میں چلنے والی یہ تحریک، جسے “کاکروچ جنتا پارٹی” کا نام دیا گیا ہے، امتحانی نظام میں بے ضابطگیوں اور پیپر لیکس کے خلاف وزیر تعلیم کے استعفے کا مطالبہ کر رہی ہے۔
ہفتے کے روز سے شروع ہونے والا یہ احتجاج نئی دہلی کے تاریخی مقام ‘جنتر منتر’ پر جاری ہے، جہاں سینکڑوں نوجوان ڈیرے ڈالے ہوئے ہیں اور ان کا عزم ہے کہ جب تک وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان استعفیٰ نہیں دیتے، وہ وہاں سے نہیں ہٹیں گے۔

تحریک کا پس منظر اور ‘کاکروچ’ نام کی وجہ
یہ تحریک محض ایک ماہ پرانی ہے لیکن اس کی جڑیں نوجوانوں میں پائے جانے والے گہرے عدم اطمینان اور مایوسی میں پیوست ہیں۔
نام کی وجہ: تحریک کا نام “کاکروچ جنتا پارٹی” دراصل بھارت کی حکمران جماعت ‘بھارتیہ جنتا پارٹی’ پر ایک طنز ہے۔ یہ نام بھارت کے چیف جسٹس کے ایک مبینہ بیان سے لیا گیا ہے، جسے نوجوانوں نے اپنے لیے توہین آمیز سمجھا تھا۔
بنیادی وجہ: بھارت میں حال ہی میں میڈیکل کے سب سے بڑے داخلہ امتحان کے پیپرز مبینہ طور پر لیک ہونے کے بعد 20 لاکھ سے زائد طلبہ کے نتائج منسوخ کر دیے گئے، جس کے بعد نوجوانوں کا غصہ سڑکوں پر آ گیا
طنز و مزاح اور اچھوتے احتجاجی طریقے
روایتی پرتشدد مظاہروں کے برعکس، اس نوجوان تحریک نے حکومت کو آڑے ہاتھوں لینے کے لیے انتہائی منفرد اور طنزیہ طریقے اپنائے ہیں:
ڈائپرز کا استعمال: مظاہرین نے سڑکوں پر ڈائپرز لہرائے اور ان پر وزیر تعلیم کے استعفے کے مطالبے لکھے۔ تحریک کے بانی ابھیجیت دیپکے کا کہنا تھا: “جب ملک کا کوئی امتحانی نظام ایسا نہیں جو لیک نہ ہوتا ہو، تو حکومت کو امتحانات کی ‘لیکج’ روکنے کے لیے ڈائپر کا استعمال کرنا چاہیے”
تھالیاں بجانا: مظاہرین نے اسٹیل کے برتن اور چمچ بجا کر احتجاج کیا، جو کہ کووڈ-19 کے دوران وزیر اعظم مودی کی جانب سے برتن بجانے کی اپیل کا ایک طنزیہ جواب تھا۔
امن پسندی کا پیغام: مظاہرین نے ڈیوٹی پر موجود پولیس اہلکاروں کو گلاب کے پھول پیش کیے، جبکہ ہاتھوں میں بھارتی پرچم اور آئینِ ہند کی کاپیاں تھام رکھی تھیں۔

حکومت کا ردعمل اور طلبہ کی قربانیاں
حالیہ امتحانی اسکینڈل اور دباؤ کے باعث کئی طلبہ کی خودکشیوں کی خبریں بھی سامنے آئی ہیں، جن کی یاد میں مظاہرین نے کینڈل لائٹ مارچ بھی کیا۔
دوسری جانب، حکومت کی طرف سے اس تحریک پر سخت ردعمل دیکھنے میں آیا ہے۔ وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان نے ایک انٹرویو میں “کاکروچ جنتا پارٹی” کو دہشت گرد تنظیموں کی ‘بی ٹیم’ قرار دیا، جسے تحریک کے رہنما نے انتہائی افسوسناک اور اخلاقی ذمہ داری سے بھاگنے کی کوشش قرار دیا۔
یہ بھی پڑھیں
کاکروچ جنتا پارٹی کا نئی دہلی کی سڑکوں پر پہلا بڑا احتجاج
مستقبل کا لائحہ عمل
محض چند سو نوجوانوں سے شروع ہونے والی یہ مہم اب شام ہوتے ہی ہزاروں کے مجمع میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ ابھیجیت دیپکے کے مطابق، یہ تحریک ابھی اپنے ابتدائی مرحلے میں ہے اور وہ اسے ملک کی دیگر ریاستوں تک پھیلا کر بھارت کے پورے امتحانی نظام میں ایک بڑی اصلاح لانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔