لبنان میں نئی کشیدگی، امریکہ ایران امن مذاکرات اچانک منسوخ
سوئٹزرلینڈ کے پہاڑی ریزورٹ برگن اسٹاک میں ہونے والے اہم امریکہ ایران تکنیکی مذاکرات اچانک منسوخ کر دیے گئے ہیں۔
امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ کے خاتمے اور مستقل امن معاہدے پر عملدرآمد کے لیے آج (جمعہ کو) سوئٹزرلینڈ میں ہونے والے طے شدہ تکنیکی مذاکرات اچانک منسوخ ہو گئے ہیں۔ یہ پیش رفت اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان شدید فضائی اور زمینی جھڑپوں کے بعد سامنے آئی ہے۔
منسوخی کی بنیادی وجوہات
بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کے مطابق، منسوخی کی سب سے بڑی وجہ اسرائیل کی جانب سے لبنان پر کیے جانے والے تازہ اور شدید حملے بنے۔
حزب اللہ کے حملے میں 4 اسرائیلی فوجیوں کی ہلاکت کے بعد اسرائیل نے جنوبی لبنان اور وادی بقاع پر شدید ترین فضائی حملے کیے، جن میں کم از کم 18 افراد جاں بحق ہو گئے۔
ان حملوں کے ردعمل میں ایرانی وفد نے سوئٹزرلینڈ کا اپنا دورہ معطل کر دیا، جس کے باعث مذاکرات کو تعطل کا سامنا کرنا پڑا۔
دوسری جانب ایرانی حکام کا مؤقف تھا کہ وہ اگلے مرحلے کے امن مذاکرات سے پہلے امریکہ کی طرف سے عبوری معاہدے پر عملدرآمد کے واضح نشانات دیکھنا چاہتے ہیں۔
امریکی وفد کی روانگی آخری لمحات میں روک دی گئی
مذاکرات کی منسوخی اتنی اچانک ہوئی کہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کا عملہ اور صحافیوں کا وفد واشنگٹن کے باہر جوائنٹ بیس اینڈریوز پر طیارے میں سوار ہونے کے لیے تیار کھڑا تھا، جب آخری لمحات میں اس دورے کو منسوخ کرنے کا اعلان کیا گیا۔
وائٹ ہاؤس کے ترجمان نے تصدیق کی ہے کہ نائب صدر جے ڈی وینس کا سوئٹزرلینڈ کا دورہ فی الحال ملتوی کر دیا گیا ہے، تاہم امریکہ “تکنیکی مذاکرات کو جلد از جلد دوبارہ شروع کرنے” کا خواہشمند ہے۔
اسلام آباد معاہدہ اور اگلا مرحلہ
یہ مذاکرات دو دن قبل طے پانے والے اس اہم مفاہمت نامے (اسلام آباد امن معاہدہ) کے تحت شروع ہونا تھے جس کے بعد 60 روز کا وقت دیا گیا تھا تاکہ:
ایران کے جوہری پروگرام پر مستقل حل نکلا جا سکے۔
آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل کو دوبارہ بحال کیا جا سکے۔
امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کو مستقل ختم کیا جا سکے۔
موجودہ صورتحال: سوئس حکام اور ثالثی کا کردار ادا کرنے والے ممالک (بشمول پاکستان اور قطر) کا کہنا ہے کہ اگرچہ مذاکرات فی الحال ملتوی ہو گئے ہیں، لیکن اسے مستقل خاتمہ نہیں سمجھا جانا چاہیے اور فریقین کے درمیان پسِ پردہ سفارتی رابطے اب بھی جاری ہیں تاکہ بات چیت کا نیا دور جلد شروع ہو سکے۔
