سکیورٹی فورسز نے بلوچستان میں 54 دہشتگردوں کو جہنم واصل کیا، ڈی جی آئی ایس پی آر
ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے بلوچستان کی سکیورٹی صورتحال پر تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ گزشتہ چار روز کے دوران بلوچستان میں دہشت گردی کے تین بڑے واقعات پیش آئے، جن میں فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان سے وابستہ دہشت گردوں نے اپنے مذموم مقاصد کے لیے معصوم شہریوں کو نشانہ بنایا۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے بلوچستان میں سکیورٹی صورتحال پر بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ فتنہ الخوارج کے دہشتگردوں نے مذموم مقاصد کےلیےمعصوم شہریوں کو ہدف بنایا، بلوچستان کے بہادر عوام اورپولیس نے دلیری سے مقابلہ کیا۔
دہشت گردوں کے خلاف آپریشنز اور ہلاکتیں
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کامیاب کارروائیوں کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا:
زیارت آپریشن: زیارت میں دہشت گردوں کے خلاف کی جانے والی مؤثر کارروائی کے دوران کم از کم 15 دہشت گرد ہلاک ہوئے، جو اپنی 15 لاشیں وہیں چھوڑ کر فرار ہو گئے۔
حالیہ آپریشنز: آج کیے گئے دو مزید مختلف آپریشنز میں 14 دہشت گردوں کو جہنم واصل کیا گیا۔
مجموعی ہلاکتیں: گزشتہ چند روز کے دوران سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں میں مجموعی طور پر 54 دہشت گرد مارے جا چکے ہیں۔
ترجمان نے مزید بتایا کہ منگی ڈیم اور کوئٹہ پمپنگ اسٹیشن کے علاقوں میں بھی دہشت گردی کے واقعات پیش آئے۔
سکیورٹی فورسز کی قربانیاں
ڈی جی آئی ایس پی آر نے وطن عزیز کے دفاع میں جانیں قربان کرنے والے بہادر جوانوں کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے بتایا کہ ان تینوں دہشت گرد حملوں کا مردانگی سے مقابلہ کرتے ہوئے مجموعی طور پر 42 اہلکار شہید ہوئے، جن میں پولیس کے 18 جوان بھی شامل ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ زیارت میں شہید ہونے والے تمام پولیس اہلکار مقامی اور مسلمان تھے، جس سے دہشت گردوں کا یہ جھوٹا پروپیگنڈا بے نقاب ہو جاتا ہے کہ وہ بلوچستان یا اسلام کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ دہشت گردوں نے معصوم بچوں کو یرغمال بنایا اور مقامی آبادی کو نشانہ بنا کر عوام میں خوف و ہراس پھیلانے کی کوشش کی۔
پاکستان میں دہشتگردانہ کارروائیوں میں بھارت ملوث ہے: ڈی جی آئی ایس پی آر
ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق پاکستان کی خوشحالی اورترقی کے دشمن دہشتگردی کے ان واقعات میں ملث ہیں۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق دہشتگردانہ کارروائیاں بھارت اور وہ قوتیں کروا رہی ہیں جن کو پاکستان کی عزت اور استحکام برداشت نہیں ہوتی، افغانستان کی سرزمین غیر قانونی افغان طالبان رجیم کے زیر قبضہ اس دہشتگردی کیلئے استعمال ہورہی ہے، دہشتگردی کے ان واقعات میں زیادہ ترمارے گئے دہشتگرد افغان تھے،کراچی واقعے میں ملوث 4 حملہ آور میں 3 افغان دہشتگرد تھے، ان دہشتگردوں کو سہولتکاری افغان طالبان رجیم فراہم کررہی ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ افغان طالبان رجیم کو پاکستان کے عزت اور وقار سے مسئلہ ہے، ان کو ہر اس چیز سے مسئلہ ہے جو بلوچستان کے عوام کے لیے ہے، ان کو کوئٹہ کےلیے جانے والی پانی کی پائپ لائن سے مسئلہ ہے
پاکستان کو کوئی مائی کا لال دھمکا نہیں سکتا ،جی آئی ایس پی آر
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا ہم روز ان دہشتگردوں کا تعاقب کریں گے اور ان کو ہدف بنائیں گے، بلوچستان کے وزیراعلیٰ بائی روڈ زیارت گئے، تین سال سے ریاست جو واضح پالیسی دکھارہی ہے ان کو اس سے پریشانی ہے، ریاست واضح بتارہی ہےکہ یہ فتنہ الہندوستان ہے ان کا بلوچستان یا بلوچیت سے تعلق نہیں، ریاست واضح بتارہی ہے کہ یہ فتنہ الخوارج ہے اس کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں، غیرقانونی افغان مقیم باشندوں کو پاکستان سے اٹھا کر باہر پھینکیں گے، دنیا میں کوئی مائی کا لعل پیدا نہیں ہوا جو پاکستان کو دھمکا سکے۔