vni.global
Viral News International

امریکہ ایران جنگ ، مفاہمت کی کوششیں دم توڑنے لگیں

امریکہ اور ایران کے درمیان جاری شدید فوجی تنازع کو ختم کرنے کے لیے بین الاقوامی اور علاقائی سطح پر کی جانے والی مفاہمت کی تمام کوششیں دم توڑتی نظر آ رہی ہیں،  جس سےمشرقِ وسطیٰ میں ایک وسیع البنیاد جنگ کا خطرہ سنگین ہو گیا ہے۔

شدید تضادات نے امن کے عمل کومفلوج کر دیا

سفارتی ذرائع کے مطابق، پاکستان، قطر اور عمان کی طویل ترین ثالثی اور 100 دنوں سے زائد کی کوششوں کے بعد گزشتہ ماہ جون میں طے پانے والا تاریخی “اسلام آباد معاہدہ”  ناکامی کے دہانے پر پہنچ چکا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان شدید تضادات اور خلیج کے باعث امن کا عمل مکمل طور پر مفلوج ہو چکا ہے اور مبصرین اسے ایک اسٹریٹجک بند گلی قرار دے رہے ہیں جہاں سے واپسی کا راستہ دکھائی نہیں دیتا۔

جنگ بندی کےمعاہدے کو اب ختم تصور کرتے ہیں، ٹرمپ

مفاہمت کی کوششوں کو سب سے بڑا دھچکا اس وقت لگا جب رواں ماہ جولائی کے آغاز میں آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں پر دوبارہ حملے شروع ہوئے، جس کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے باقاعدہ اعلان کیا کہ وہ جنگ بندی کے اس معاہدے کو اب ختم تصور کرتے ہیں۔ امریکی انتظامیہ کا موقف ہے کہ ایران بحری گزرگاہوں کو کنٹرول کرنے اور تجارتی جہازوں سے فیسیں وصول کرنے کے لیے جبر کا راستہ اپنا رہا ہے، جسے کسی صورت تسلیم نہیں کیا جائے گا۔ واشنگٹن نے واضح کر دیا ہے کہ اب کسی بھی نئی سفارتی میز پر بیٹھنے سے پہلے ایران کو آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی مکمل آزادی دینی ہوگی اور اپنے جوہری پروگرام پر سخت ترین شرائط تسلیم کرنا ہوں گی، جن پر ایرانی قیادت کسی صورت راضی دکھائی نہیں دیتی۔

واشنگٹن کےوعدوں پر بھروسہ  نہیں کیا جاسکتا، ایران

دوسری جانب، تہران میں بھی مفاہمت کے حامیوں کے مقابلے میں سخت گیر حلقوں کا موقف مضبوط ہو چکا ہے جن کا ماننا ہے کہ واشنگٹن کے معاشی وعدوں پر بھروسہ کرنے کے بجائے آبنائے ہرمز پر فوجی کنٹرول برقرار رکھنا ایران کے لیے زیادہ سودمند ہے۔ ایرانی رہبرِ اعلیٰ مجتبیٰ خامنہ ای نے امریکی صدر پر معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام عائد کرتے ہوئے مذاکرات کے تسلسل کو بے معنی قرار دے دیا ہے، کیونکہ ایک طرف امن کی باتیں کی جا رہی تھیں اور دوسری طرف امریکہ ایران کے بنیادی ڈھانچے اور پلوں پر فضائی حملے کر رہا تھا۔ ایرانی عسکری قیادت نے یہ بھی صاف کر دیا ہے کہ کسی بھی ایسے معاہدے کو قبول نہیں کیا جائے گا جس میں لبنان اور خطے کے دیگر حصوں میں مزاحمتی فرنٹ کے مفادات کا تحفظ نہ کیا گیا ہو۔

ثالثی میں اہم کردارادا کرنے والے ممالک بھی موجودہ صورتحال سے مایوس

ثالثی کرنے والے ممالک، بالخصوص پاکستان اور قطر کے حکام نے شدید مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان بنیادی سکیورٹی اہداف پر اس قدر شدید اختلافات ہیں جنہیں پاٹنا اب ناممکن دکھائی دے رہا ہے۔ دونوں فریقین اس وقت مفاہمت پر آمادہ ہونے کے بجائے ایک دوسرے کو فوجی طاقت کے ذریعے جھکانے کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں۔

سفارتی راستے بند ہونے کے ساتھ ہی دونوں اطراف سے حملوں میں غیر معمولی شدت آ چکی ہے، جس نے خطے کے ان ممالک کو بھی لپیٹ میں لے لیا ہے جو اس جنگ کا حصہ نہیں تھے، اور یوں مہینوں کی محنت سے تیار کیا گیا امن کا یہ عمل اب تاریخ کا حصہ بنتا دکھائی دے رہا ہے۔

You might also like
Leave A Reply

Your email address will not be published.