عمران خان نے اپنی صحت سے متعلق شدید تحفظات کا اظہار کیا،بہن عظمی خان
عمران خان کی صحت پر تحفظات: عدالتی حکم کے باوجود پمز منتقلی پر اہلیانِ خانہ اور رہنماؤں کا احتجاج۔
اسلام آباد میں ایک اہم پریس کانفرنس کرتے ہوئے بانی تحریک انصاف عمران خان کی بہن ڈاکٹر عظمیٰ خان نے بتایا کہ عمران خان نے اپنی صحت سے متعلق شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ قیدِ تنہائی کی وجہ سے عمران خان کو اینزائیٹی اور مسلسل بلڈ پریشر کی شکایت ہو رہی ہے، جبکہ ان کی بات نہیں سنی جا رہی اور نہ ہی کسی کو ان کے قریب جانے دیا جا رہا ہے۔
ڈاکٹر عظمیٰ خان کا کہنا تھا کہ گزشتہ رات انہیں بھی اڈیالہ جیل سے پمز اسپتال لے جایا گیا جہاں عمران خان پہلے سے موجود تھے، تاہم اگلے ہی روز صبح انہیں دوبارہ اڈیالہ جیل منتقل کر دیا گیا۔
عمران خان کے ذاتی معالج ڈاکٹر فیصل سلطان نے پریس کانفرنس میں انکشاف کیا کہ وہ رات کو شفا انٹرنیشنل اسپتال پہنچے جہاں انہیں تین گھنٹے انتظار کروایا گیا، اور صبح بتائیا گیا کہ بانی پی ٹی آئی کو وہاں نہیں لایا جائے گا بلکہ وہ پمز اسپتال سے واپس جیل بھیجے جا چکے ہیں۔
اس موقع پر وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے اس تمام معاملے کو سپریم کورٹ کے احکامات کی توہین قرار دیتے ہوئے عدالت سے نوٹس لینے کا مطالبہ کیا۔
دوسری جانب وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے حکومتی مؤقف پیش کرتے ہوئے بتایا کہ 20 اور 21 اگست کی درمیانی شب سیکورٹی خدشات اور شفا اسپتال کے باہر کی صورتحال کے پیش نظر عمران خان کو پمز اسپتال منتقل کیا گیا تھا۔ انہوں نے تصدیق کی کہ ماہر امراض چشم، ماہر امراض قلب اور فزیشنز پر مشتمل ڈاکٹروں کی ٹیم نے ان کا تفصیلی معائنہ کیا جس کے بعد انہیں صحت مند قرار دے کر واپس اڈیالہ جیل منتقل کر دیا گیا۔