اپوزیشن کا 27 ستمبر کا احتجاج اور لانگ مارچ برقرار رکھنے کا فیصلہ
اسلام آباد میں اپوزیشن جماعتوں کی مشترکہ پارلیمانی پارٹی کے اہم اجلاس میں ملکی سیاسی صورتحال اور مستقبل کی حکمت عملی پر مفصل فیصلے کیے گئے ہیں۔
اجلاس محمود خان اچکزئی کی زیرِ صدارت منعقد ہوا، جس میں راجا ناصر عباس، بیرسٹر گوہر علی خان، شاہد خٹک، اسد قیصر، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی اور سلمان اکرم راجا سمیت اپوزیشن کے دیگر اہم رہنماؤں نے شرکت کی۔
عمران خان کی صحت پر تشویش پارلیمانی پارٹی کے رہنماؤں نے پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی صحت اور علاج کے حوالے سے گہری تشویش کا اظہار کیا۔ اپوزیشن کا کہنا تھا کہ عمران خان کی صحت اور ان کی مناسب طبی دیکھ بھال پر کوئی سمجھوتہ قبول نہیں کیا جائے گا۔ اس موقع پر حکومت پر الزام عائد کیا گیا کہ وہ اس معاملے پر سنجیدگی دکھانے کے بجائے ڈرامہ رچاتی رہی ہے۔
سپریم کورٹ کے احکامات اور توہینِ عدالت اجلاس میں اعلیٰ عدلیہ کے فیصلوں کی پاسداری نہ ہونے پر حکومت کی شدید مذمت کی گئی۔ اپوزیشن رہنماؤں نے کہا کہ سپریم کورٹ کے احکامات پر عملدرآمد نہ کرکے حکومت صریحاً توہینِ عدالت کی مرتکب ہوئی ہے۔ اس حوالے سے یہ حتمی فیصلہ کیا گیا ہے کہ حکومت کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا جائے گا۔
27 ستمبر کا احتجاج اور لانگ مارچ اپوزیشن جماعتوں نے 27 ستمبر کو مقرر کردہ احتجاج اور لانگ مارچ کے فیصلے کو برقرار رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ احتجاجی تحریک اور لانگ مارچ کو زیادہ موثر بنانے کے لیے تمام اپوزیشن جماعتوں کو باضابطہ شرکت کی دعوت دینے پر اتفاق ہوا ہے۔
گرینڈ اپوزیشن الائنس اور مستقبل کا لائحہ عمل گرینڈ اپوزیشن الائنس کے قیام کی مکمل تائید کی گئی اور اسے ہر سطح پر فعال بنانے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔ مولانا فضل الرحمان سمیت تمام اپوزیشن جماعتوں کی اس الائنس میں شمولیت کا خیرمقدم کیا گیا تاکہ پارلیمان اور عوام دونوں سطحوں پر اپوزیشن کی آواز کو مزید طاقت فراہم کی جا سکے۔ علاوہ ازیں، آئین و قانون کی حکمرانی اور جمہوریت کے تحفظ کے لیے پنجاب سمیت ملک بھر میں عوامی رابطہ مہم کو تیز کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔