vni.global
Viral News International

ماحولیاتی آلودگی کیس ،لاہور ہائی کورٹ نے درختوں کی کٹائی پر پابندی برقرار رکھنےکا تفصیلی فیصلہ جاری کردیا

لاہور ہائیکورٹ نے ماحولیاتی آلودگی اور سموگ کے تدارک سے متعلق اہم پیش رفت کرتے ہوئے 264 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا ہے۔ یہ فیصلہ جسٹس شاہد کریم نے شہری ہارون فاروق کی درخواست  منظور کرتے ہوئے تحریر کیا۔عدالتی فیصلے کے اہم احکامات اور نکات درجہ زیل ہیں

درختوں کے تحفظ پر سخت پابندی

یلو لائن منصوبہ: عدالت نے لاہور کینال کے درختوں کے تحفظ کے احکامات برقرار رکھتے ہوئے حکم دیا ہے کہ یلو لائن منصوبے کے لیے کسی درخت کی کٹائی نہیں ہوگی، کیونکہ یہ منصوبہ فی الحال ابتدائی اور فزیبلٹی مرحلے میں ہے۔

درخت کاٹنے والوں پر مقدمات: درختوں کی کٹائی پر سخت پابندی عائد کر دی گئی ہے اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف فوجداری مقدمات درج کیے جا رہے ہیں۔

میاواکی فاریسٹ: لاہور میں 52 میاواکی اربن فاریسٹ قائم کیے جا چکے ہیں جنہوں نے گرین کور بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔

زیرِ زمین پانی کا تحفظ اور استعمال

پانی کی سطح میں بہتری: عدالتی اقدامات کے باعث لاہور کا زیرِ زمین پانی گزشتہ 5 سال سے مزید تنزلی سے بچا ہوا ہے۔

بارش کے پانی کو محفوظ کرنا

لاہور میں وضو کے پانی سے پارکوں کی آبپاشی کا نظام متعارف کرایا گیا۔

قذافی سٹیڈیم (40 لاکھ گیلن گنجائش)، گڑھی شاہو، شیرانوالہ گیٹ اور لارنس روڈ میں زیرِ زمین ٹینکس تعمیر کیے گئے۔

نئے قوانین: نئے بلڈنگ پلانز میں رین واٹر ہارویسٹنگ لازمی قرار دی گئی ہے، جبکہ 1 کنال یا اس سے بڑے گھروں میں ‘گری واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ’ لازمی کیا گیا ہے۔ پنجاب بھر میں ایکوافر چارجز بھی نافذ کر دیے گئے ہیں۔

سموگ اور فضائی آلودگی کا تدارک

گاڑیاں اور اینٹوں کے بھٹے: لاہور کی فضائی آلودگی میں گاڑیوں کا حصہ 83% ہے، جبکہ پنجاب کے تمام اينٹوں کے بھٹوں کو زگ زیگ (Zig-Zag) ٹیکنالوجی پر منتقل کر دیا گیا ہے۔

پلاسٹک بیگز پر پابندی: پنجاب بھر میں پلاسٹک بیگز پر پابندی کے عملدرآمد کو تیز کرنے اور خلاف ورزی پر 5,000 سے 20,000 روپے تک جرمانے اور دکانیں سیل کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔

ماسٹر پلان 2050: لاہور کا ماسٹر پلان 2050 ماحولیاتی قوانین کی خلاف ورزی پر پہلے ہی کالعدم قرار دیا جا چکا ہے

عدالت کا حتمی موقف:“ترقیاتی منصوبے ماحول اور قدرتی وسائل کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا کر مکمل نہیں کیے جا سکتے۔ موسمیاتی تبدیلی انسانوں کی پیدا کردہ عالمی تباہی ہے؛ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو تہذیب اور قدرتی دنیا کے وجود کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔”

عدالت نے حکومت کو ہدایت کی ہے کہ وہ ماحولیاتی اور آبی تحفظ کو اپنی پالیسی سازی کا بنیادی حصہ بنائے اور ماحولیاتی تحفظ کے لیے بنائی گئی واٹر اینڈ انوائرمنٹ کمیشن کے ارکان کی خدمات کے اعتراف میں انہیں سول ایوارڈز دینے کی بھی سفارش کی ہے

You might also like
Leave A Reply

Your email address will not be published.