ایران اور امریکا کے درمیان بالواسطہ مذاکرات قطر میں جاری
دوحہ : پاکستان کی کامیاب سفارتی کوششوں کے نتیجے میں امریکہ اور ایران کے درمیان قطر کے دارالحکومت دوحہ میں تکنیکی مذاکرات کا باقاعدہ آغاز ہو گیا ہے۔ اس پیش رفت کو خطے میں امن و امان کی بحالی اور ایک بڑے ممکنہ تصادم کو روکنے کی جانب ایک اہم ترین سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے۔
پسِ منظر اور جنگ بندی
یاد رہے کہ رواں سال 28 فروری 2026ء کو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر مشترکہ حملہ کیا گیا تھا، جس کے نتیجے میں ایران کے رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای اور علی لاریجانی سمیت کئی اہم سیاسی و عسکری رہنما شہید ہو گئے تھے۔ اس ناگہانی صورتحال کے بعد مجتبیٰ خامنہ ای نے ایران کی قیادت سنبھالی۔
جنگ کی ہولناکی کو دیکھتے ہوئے پاکستان نے فوری طور پر سفارتی محاذ سنبھالا اور اس کی انتھک کوششوں کے باعث 8 اپریل کو دونوں ممالک کے درمیان دو ہفتوں کی عارضی جنگ بندی عمل میں آئی، جس کی مدت میں بعد ازاں مسلسل توسیع کی جاتی رہی۔
‘اسلام آباد مفاہمتی یادداشت’ اور موجودہ مذاکرات
پاکستان نے 47 سالہ تاریخ میں پہلی مرتبہ ایران اور امریکہ کو براہِ راست مذاکرات کی میز پر بٹھانے کا تاریخی کارنامہ سرانجام دیا۔ پاکستان اور دیگر دوست ممالک کی مشترکہ کوششوں کے بعد بالاخر 18 جون کو دونوں ممالک نے ‘اسلام آباد مفاہمتی یادداشت’ پر دستخط کیے۔

آج دوحہ میں شروع ہونے والے تکنیکی مذاکرات اسی سلسلے کی کڑی ہیں جس کا مقصد مفاہمتی یادداشت پر عمل درآمد کے لیے تکنیکی امور کو طے کرنا ہے۔
تازہ ترین صورتحال اور عالمی ردعمل
-
اثاثوں کی بحالی کا نکتہ: سفارتی ذرائع کے مطابق قطر میں منجمد ایرانی اثاثوں کی بحالی اور ان کا استعمال اس وقت مذاکرات کا سب سے اہم اور فیصلہ کن نکتہ بنا ہوا ہے۔
-
آبنائے ہرمز کی صورتحال: جنگ بندی اور بحری ناکہ بندی ختم ہونے کے بعد آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل دوبارہ جنگ سے پہلے کی سطح پر پہنچ چکی ہے اور ایران اب تک 5 کروڑ بیرل خام تیل برآمد کر چکا ہے۔
-
عالمی سطح پر مشاورت: دوسری جانب چین اور سعودی عرب کے وزرائے خارجہ نے بھی ملاقات کی ہے جس میں امریکہ ایران مفاہمتی یادداشت اور علاقائی سلامتی پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا ہے۔
اگرچہ خطے میں اب بھی کہیں کہیں کشیدگی اور غیر یقینی کی صورتحال موجود ہے، تاہم دوحہ مذاکرات کے آغاز سے عالمی مارکیٹ اور خاص طور پر تیل کی قیمتوں میں استحکام آنے کی امید ظاہر کی جا رہی ہے۔