امریکہ اور اسرائیل کی عہد شکنی؛ ایران کا آبنائے ہرمز دوبارہ بند کرنے کا اعلان
تہران / واشنگٹن (ویب ڈیسک): ایرانی مسلح افواج کے اعلیٰ ترین مشترکہ کمانڈ ‘خاتم الانبیا مرکزی ہیڈکوارٹر’ نے امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے جنگ بندی معاہدے کی مبینہ خلاف ورزیوں پر ردِعمل ظاہر کرتے ہوئے اسٹریٹجک اہمیت کے حامل بحری راستے ‘آبنائے ہرمز’ کو تمام تر تجارتی و بحری ٹریفک کے لیے دوبارہ بند کرنے کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایرانی فوجی کمانڈ نے یہ سخت فیصلہ چند روز قبل امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کی پہلی شرط پر عمل درآمد نہ ہونے اور جنوبی لبنان میں جاری اسرائیلی حملوں کے باعث کیا ہے۔
پہلی شرط کی خلاف ورزی اور دھوکا دہی کا الزام
خاتم الانبیا مرکزی ہیڈکوارٹر کی جانب سے جاری کردہ آفیشل بیان میں کہا گیا ہے کہ:“امریکہ نے جنگ بندی اور جنگ کے خاتمے کے لیے طے پانے والے معاہدے کے آرٹیکل 1 (پہلی شرط) پر عمل نہ کر کے کھلی بدعہدی اور دھوکا دہی کا مظاہرہ کیا ہے۔ دوسری جانب صیہونی حکومت (اسرائیل) نے بھی جنوبی لبنان میں جنگ بندی کی مسلسل خلاف ورزی کرتے ہوئے معصوم شہریوں کا قتل عام جاری رکھا ہوا ہے، جس کے باعث یہ بندش ناگزیر ہو گئی ہے۔”
ایرانی عسکری حکام نے واضح کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کی بندش ابھی ان کا “پہلا قدم” ہے۔ اگر امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے جارحیت کا سلسلہ نہ رکا تو دشمن کو معاہدے کا پابند بنانے کے لیے اس سے بھی زیادہ سخت اقدامات اٹھائے جائیں گے۔ اس کے ساتھ ہی پاسدارانِ انقلاب کی نیوی نے تمام بحری جہازوں کو آبنائے ہرمز سے دور رہنے کی وارننگ بھی جاری کر دی ہے۔
سوئٹزرلینڈ مذاکرات اور امریکی ردِعمل
یہ کشیدگی ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب دونوں ممالک کے وفود جامع امن عمل کے اگلے مرحلے کے لیے سوئٹزرلینڈ روانہ ہو رہے ہیں۔ ایرانی دفترِ خارجہ کے مطابق سپیکر محمد باقر قالیباف اور وزیرِ خارجہ عباس عراقچی پر مشتمل اعلیٰ سطح کا وفد تکنیکی مذاکرات کے لیے سوئٹزرلینڈ جا رہا ہے تاکہ واشنگٹن پر معاہدے کی پاسداری کے لیے دباؤ ڈالا جا سکے۔
دوسری جانب امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے اس پیش رفت پر ردِعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ کو فی الحال آبنائے ہرمز کی بندش کے ٹھوس شواہد نہیں ملے اور تجارتی جہازوں کی نقل و حمل جاری ہے، تاہم انہوں نے امید ظاہر کی کہ فریقین کے درمیان جنگ بندی کا معاہدہ برقرار رہے گا۔
عالمی معیشت پر اثرات کا خطرہ
واضح رہے کہ آبنائے ہرمز دنیا میں خام تیل اور مائع قدرتی گیس کی نقل و حمل کے لیے سب سے اہم ترین بحری راستہ ہے، جہاں سے روزانہ دنیا کی ضرورت کا تقریباً 20 فیصد تیل گزرتا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اس اہم گزرگاہ کی دوبارہ بندش سے عالمی منڈیوں میں توانائی کا بحران پیدا ہونے اور تیل کی قیمتوں میں شدید اضافے کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔