اعلیٰ عدلیہ کے ججز کی تنخواہوں اور مراعات میں بڑا اضافہ کردیا گیا
صدر مملکت آصف علی زرداری نے وفاقی حکومت کی سفارش پر سپریم کورٹ اور ہائی کورٹس کے ججز کی تنخواہوں، الاؤنسز اور مراعات میں نمایاں اضافے کی سمریز کی منظوری دے دی ہے۔
اس فیصلہ کے تحت سپریم کورٹ کے ججز کی بنیادی تنخواہ میں چار لاکھ روپے کا اضافہ کیا گیا ہے جس کے بعد ان کی ماہانہ بنیادی تنخواہ 11 لاکھ روپے سے بڑھ کر 15 لاکھ روپے جبکہ چیف جسٹس آف پاکستان کی ماہانہ بنیادی تنخواہ 15 لاکھ 50 ہزار روپے مقرر کر دی گئی ہے۔
اس کے علاوہ سپریم کورٹ کے ججز کے جوڈیشل الاؤنس میں بھی 3 لاکھ 39 ہزار روپے کا اضافہ کیا گیا ہے جس سے الاؤنس 15 لاکھ روپے ماہانہ ہو گیا ہے جبکہ 1 لاکھ 50 ہزار روپے ماہانہ میڈیکل الاؤنس بھی شامل کیا گیا ہے۔
ہائی کورٹ کے ججز کی تنخواہوں میں بھی اضافہ منظور کیا گیا ہے جس کے تحت ان کی بنیادی تنخواہ 10 لاکھ 95 ہزار روپے سے بڑھ کر 12 لاکھ 5 ہزار روپے ہو گئی ہے اور چیف جسٹس ہائی کورٹ کی تنخواہ 12 لاکھ 54 ہزار روپے مقرر کی گئی ہے۔
نئی پالیسی کے تحت پنشن پیکیج کی حد میں توسیعی ترامیم کے علاوہ دو سال سے زائد عرصے تک چیف جسٹس رہنے والے ججوں کو ریٹائرمنٹ یا اعلیٰ عدالت میں منتقلی پر رعایتی قیمت پر گاڑی خریدنے کی سہولت بھی دی گئی ہے۔
سپریم کورٹ کے ججز کی نئی تنخواہوں اور مراعات کا اطلاق 10 دسمبر 2025 جبکہ ہائی کورٹ ججز کے لیے اطلاق یکم جولائی 2026 سے ہوگا اور ججز کو ان کے گزشتہ عرصے کے تمام مالی بقایا جات بھی ادا کیے جائیں گے۔