ہاتھ نہ ملانے والا اب بات چیت کیلئے تیار ہے: شہباز شریف
نوجوانوں کے ذہنوں میں زہر کھولنے کی کوشش کی جاری ہے، یوتھ پروگرام سے خطاب
اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نےکہا ہے کہ عمران خان اپنی حکومت میں کہتا رہا ہاتھ نہیں ملاؤں گا اب کہتا ہے بات چیت کیلئے تیار ہوں۔ نوجوانوں کے ذہنوں میں زہر کھولنے کی کوشش کی جاری ہے جو ناکام ہوگی
اسلام آباد میں یوتھ پروگرام کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے شہباز شریف کہا کہ وزیر منصوبہ بندی و ترقی نے یہ پروگرام شروع کرکے پاکستان کے نوجوانوں کی خدمت دوبارہ شروع کی ہے، پاکستان کی آبادی کا ایک بڑا حصہ نوجوانوں پر مشتمل ہے، مسلم لیگ (ن) کے دور میں اس ملک کے نوجوانوں کیلئے شاندار پروگرام ترتیب دیئے گئے، میاں نواز شریف کی سربراہی میں یہ پروگرام بڑی کامیابی سے تکمیل تک پہنچے، پنجاب ایجوکیشن انڈوومنٹ فنڈ بھی ان پروگراموں میں شامل تھا جس کے تحت 20 ارب روپے کے تعلیمی وظائف پورے پاکستان کے ہونہار بچوں اور بچیوں کو دیئے گئے۔
انہوں نے کہا کہ اس پروگرام نے لاکھوں گھرانوں کو بااختیار بنایا۔ اس کے علاوہ لیپ ٹاپ پروگرام کو آج بھی لوگ یاد کرتے ہیں، اس دور میں اس پروگرام کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا گیا کہ نوجوان نسل کو رشوت دی جا رہی ہے، آج ماضی میں جھانکیں تو اس سے لاکھوں بچے اور بچیاں باعزت روزگار کما رہے ہیں، اس وقت میرا مؤقف تھا کہ ان بچوں کو لیپ ٹاپ کی بجائے کیا ان کے ہاتھوں میں بندوق تھمائوں۔
شہباز شریف نے کہا کہ افسوسناک امر یہ ہے کہ آج ہماری نوجوان نسل کو معاشرے میں زہر گھول کر تقسیم کیا جا رہا ہے، ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ ہمارے لیپ ٹاپ پروگرام سے بہتر پروگرام لے کر آتے، انہیں بچوں کو اعلیٰ تعلیم کیلئے بیرون ملک بھجواتے، ہم نے 600 بچوں کو چینی زبان سیکھنے کیلئے بھجوایا، ترک زبان سیکھنے کیلئے بچوں کو ترکی بھجوایا، یہ بچے اس وقت سی پیک میں بطور مترجم خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔
وزیراعظم نے کہا کہ ہم نے میرٹ پر بچوں کو 75 ہزار گاڑیاں دیں، جنوبی پنجاب کیلئے زیور تعلیم پروگرام شروع کیا جو غربت کی وجہ سے تعلیم سے محروم رہنے والی بچیوں کیلئے تھا، یہ وہ اقدامات تھے جو اس ملک کے اندر تعلیم کو فروغ دینے کیلئے، اپنی قوم کی بیٹیوں اور بیٹوں کوزیور تعلیم سے آراستہ کرنے کیلئے بنائے تھے جس پر اربوں روپے خرچ کئے تھے اس کا معاشرے، معیشت کو فائدہ پہنچا۔ کہ آج 40 ہزار بچوں کو انٹرن شپ اور ترقی پذیر اضلاع سے 20 ہزار انجینئرز کو انٹرن شپ دی جا رہی ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ ہماری حکومت نے ہچکولے کھاتی معاشی کشتی کو ڈوبنے سے بچایا، اس کیلئے بڑی کاوشیں کرنا پڑیں، اﷲ نے اس میں کامیاب کیا، اس کے بعد سیلاب جیسی قدرتی آفت نے پاکستانی معیشت کو بے پناہ نقصان پہنچایا، اس وقت 66 ارب روپے متاثرین میں 25 ہزار روپے فی کس کیش کی صورت میں بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ذریعے تقسیم کئے جا رہے ہیں، یہ فنڈز وفاق نے دیئے، اس کے علاوہ خیمے، کمبل، ادویات، مچھر دانیاں، پینے کا پانی سمیت اربوں روپے کا امدادی سامان ان متاثرین میں تقسیم کیا، سردیوں کیلئے ونٹر ٹینٹ فراہم کئے جا رہے ہیں، ہمارے دوست ممالک نے ہم سے بھرپور تعاون کیا، امریکا، برطانیہ، یورپی یونین سب نے تعاون کیا لیکن نقصان اتنا زیادہ ہے کہ ابھی بھی بہت فنڈز درکار ہیں، اس کیلئے وفاقی فنڈز استعمال کر رہے ہیں، اس ملک کو اﷲ نے بڑے وسائل دیئے ہیں، یہ بدقسمتی ہے کہ 75 سال میں اس استفادہ نہیں کیا جا سکا۔