vni.global
Viral News International

یقین دھانی کرائی جائےکہ آج کے بعد ملک میں کسی کو نہیں اٹھایا جائے گا،سپریم کورٹ

سپریم کورٹ میں جبری گمشدگی اور لاپتا افراد کیس چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی،

چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل سے یقین دہانی مانگ لی کہ آج کے بعد ملک میں کسی کو نہیں اٹھایا جائے گا، عدالت صرف لاپتہ افراد کے کیس سنے گی، ذاتی نوعیت کے کیس نہیں سنیں جائیں گے، عدالت نے آج کا تحریری حکم نامہ

دوران سماعت شعیب شاہین سے مکالمے میں چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا عدالت کو سیاسی اکھاڑہ نہ بنائیں،آپ لاپتہ افراد کی بات کررہے ہیں ان کا پٹیشن میں کہاں ذکر ہے؟شیخ رشید باقی کیسز میں تو عدالت آرہے ہیں، آپ شیخ رشید کے ترجمان کب سے بن گئے ہیں؟ ذاتی نوعیت کے کیسز نہیں سنیں گے،جو واپس آگئے ان کو جو نقصان ہوا متعلقہ فورم جائیں، ہم صرف وہ کیسز سنیں گے جو لوگ اب بھی غائب ہیں، کچھ عناصر نہیں چاہتے کہ الیکشن ہوں کیوں کہ وہ مضبوط پاکستان نہیں دیکھنا چاہتے، اٹارنی جنرل سے چیف جسٹس نے کہاتحریری یقین دہانی کرائیں کہ آج کے بعد کسی کو نہیں اٹھایا جائے گا۔
اٹارنی جنرل بولے،حکومت کی جانب سے تحریری یقین دہانی جمع کراؤں گا، اگر آپ کے بیان کے بعد کل کوئی لاپتہ ہوا تو اس کے نتائج ہوں گے، بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں لاپتہ افراد کا معاملہ مختلف ہے، صرف آرڈر پاس کرنے سے کچھ نہیں ہوگا،آج بھی غلط کام ہو رہے ہیں تو ہم اسے روک سکتے ہیں۔
سپریم کورٹ نے لاپتہ افراد کمیشن سے بھی تمام مقدمات کی تفصیلات مانگ لیں آمنہ مسعود جنجوعہ نے دالت کو بتایا کہ ان کے شوہر 2005میں مشرف دور میں لاپتا ہوئے چیف جسٹس نے ریمارکس دیے 18برس گزر گئے، سچائی جانناآمنہ جنجوعہ کا حق ہے،عدالت نے آمنہ مسعود کی درخواست پر وزارت داخلہ اور دفاع سے جواب مانگ لیا گیا ۔

چیف جسٹس نےریمارکس میں کہا بلوچ مظاہرین سے متعلق شعیب شاہین نے کہا تھا کہ وہ درخواست دائر کریں گے،بلوچ مظاہرین کا معاملہ اب ہم خود اپنے طور پر دیکھ رہے ہیں،یہ نہیں ہو سکتا کہ احتجاج کرنے والوں کو ڈنڈے مارے جائیں،بلوچ مظاہرین کو پرامن احتجاج کا مکمل حق حاصل ہے
چیف جسٹس نے لاپتہ افراد کمیشن کے کام اور کارکردگی سے متعلق کہا کہ کمیشن کے سربراہ کون ہیں اور ان کی کتنی عمر ہے؟ جس پر اٹارنی جنرل نے بتایا کہ جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال کمیشن کے سربراہ ہیں ور ان کی عمر77سال ہو گی۔
رجسٹرار لاپتہ افراد کمیشن سپریم کورٹ میں پیش ہوئے تو جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے پوچھا کیا آپ صرف تنخواہ ہی لے رہے ہیں؟ ہمیں حکومت پاکستان تحریری طور پر بتائے کہ مزید کسی کو غیر قانونی لاپتہ نہیں کیا جائے گا، اس ملک کو اپنوں نے ہی فریکچر کیا ہے، صرف عدالتی فیصلوں سے کچھ نہیں ہو گا۔
عدالت نے پروڈکشن آرڈرز کی تفصیلات اٹارنی جنرل کو فراہم کرنے کی بھی ہدایت کردی،وفاقی حکومت نےاسلام آباد ہائیکورٹ کے احکامات کیخلاف دائراپیلیں واپس لے لیں، عدالت نے اپیلیں واپس لینے کی بنیاد پر خارج کردیں، اگلی سماعت منگل کو ہوگی۔جاری کردیا، آمنہ مسعود جنجوعہ کی درخواست پر وزارت داخلہ اور دفاع سے جواب طلب کرلیا۔

 

You might also like
Leave A Reply

Your email address will not be published.