vni.global
Viral News International

چیف جسٹس کے سوموٹو اور بنچ بنانے کے اختیار پرقانون سازی کا فیصلہ

فائز عیسیٰ کیخلاف کیوریٹو ریویو واپس لینے اور ریفرنس بنانے والوں کیخلاف کارروائی کا اعلان

وفاقی کابینہ نے چیف جسٹس آف پاکستان کے سوموٹو اختیار اور بنچ بنانے کے اختیار کے حوالے سے قانون سازی کا فیصلہ کر لیا۔

وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا، اجلاس میں مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

اجلاس کے دوران وفاقی کابینہ نے ڈی جی ایف آئی اے رائے طاہر کو عہدے ہٹا کر انسداد دہشتگردی کا نیشنل کوآرڈینیٹر لگا دیا جبکہ ڈی جی ایف آئی اے کا عہدہ محسن بٹ کو دیدیا جو پولیس سروس کے گریڈ 22 کے افسر ہیں۔

اجلاس کے دوران وفاقی کابینہ نے عدالتی اختیارات پر قومی اسمبلی میں بحث کرانے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ وزیر اعظم نے تمام وزراء کو ایوان میں حاضری یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے۔

وفاقی کابینہ نے چیف جسٹس آف پاکستان کے سوموٹو اختیار اور بنچ بنانے کے اختیار کے حوالے سے قانون سازی کا فیصلہ کیا اور جسٹس قاضی فائز عیسی کے خلاف سپریم جیوڈیشل کونسل سے ریفرنس واپس لینے کی منظوری دی ہے۔

رانا ثناء اللہ 

اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ نے کہا کہ وفاقی کابینہ نے عدالت کے ازخود نوٹس، بینچ تشکیل کے اختیارات پر قانون سازی کا فیصلہ کیا ہے، جوڈیشل ریفارمز پر پارلیمانی کمیٹی بنے گی، از خود نوٹس اور بینچ تشکیل کا اختیار چیف جسٹس کے بجائے سینئر ججز کے پاس ہونا چاہیے، صدر مملکت کا وزیراعظم کی تجویز پر عمل کرنالازمی ہے۔ کابینہ اجلاس میں گورنرراج لگانے پر بھی بات چیت ہوئی، صدر وزیراعظم کی تجویزنہیں مانیں گے تو 10دن بعد اس پرعملدرآمد ہو جائے گا۔

رانا ثنا اللہ کا کہنا تھاکہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف جو کیوریٹو ریویو داخل کیا گیا تھا اس کی کوئی مثال نہیں ملتی،یہ کیوریٹو ریویو قاضی فائز عیسیٰ کو دباؤ میں رکھنے کیلئے دائر کیا گیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ قاضی فائزعیسیٰ ایک معزز جج ہیں، شہزاد اکبرجیسے غنڈوں نے ان کے ساتھ زیادتی کی۔

وزیر داخلہ کا کہنا تھاکہ قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف جھوٹا ریفرنس بنانے والوں کے خلاف کارروائی کیلئے کابینہ کی سب کمیٹی قائم کر دی ہے جو ان ذمہ داران کےخلاف کارروائی پر رپورٹ دے گی۔

ان کا کہنا تھاکہ کابینہ اور لا سیکرٹری نے بتایا یہ ریفرنس دائر کرنے میں کابینہ کی منظوری نہیں لی گئی تھی، یہ اُس وقت کے وزیر قانون اور شہزاد اکبر نے تماشہ کیا۔

You might also like
Leave A Reply

Your email address will not be published.